نامعلوم
شعبہ قرآن والسنۃ کلیہ معارف اسلامیہ
Mphil /PhD
University of Karachi
Public
Karachi
Sindh
Pakistan
Comparative Religion
Urdu
بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، تکثیریت ، بقائے باہمی
Interfaith harmony, religious tolerance, pluralism, coexistence
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676709318693
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil /PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PD | International Islamic University Islamabad, اسلام آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
سری پرکاش جی
افسوس ہے کہ گذشتہ مہینہ ہندوستان کی دو نامور شخصیتوں سری پرکاش جی اور پروفیسر محمد حبیب نے وفات پائی، سری پرکاش کی شخصیت مختلف حیثیتوں سے بڑی اہم تھی، وہ ہندوستان کے مشہور فلسفی صوفی ڈاکٹر بھگوان داس کے فرزند اور پنڈت جواہر لال نہرو کے پرانے معتمد علیہ رفیق تھے، انگلستان کی تعلیم کے زمانہ سے لے کر ہندوستان کی جنگ آزادی اور اس کے بعد تک ہر مرحلہ میں دونوں کا ساتھ رہا، آزادی کے بعد سری پرکاش حکومت کے ذمہ دار عہدوں پر رہے اور بڑی خوبی سے اپنے فرائض انجام دئیے اور اپنے اخلاص اور سلامت روی کی بنا پر پاکستان میں بھی ہائی کمشنری کے زمانہ میں مقبول رہے اور دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش کی، وہ ہماری پرانی مشترک تہذیب کی یادگار اور ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبردار تھے اور آخر تک اس پر قائم رہے، ان کا سب سے بڑا وصف ان کی بے تعصبی، فراخدلی اور اخلاقی بلندی تھی، وہ سیاست میں بھی صداقت و اخلاص پر عامل تھے، جو آجکل کے سیاسی لیڈروں میں کمیاب ہے اس لیے آزادی کے بعد کے حالات سے بہت بددل تھے، عرصے سے خانہ نشینی اختیار کرلی تھی، لیکن کبھی کبھی اپنے خیالات اخبار کے ذریعہ ظاہر کرتے رہتے تھے، ایک دو مرتبہ پنڈت جواہرلال نہرو کے ساتھ دارالمصنفین بھی آئے تھے، اور یہاں کے بزرگوں سے ان کے تعلقات تھے، وہ جس تہذیب کی پیداوار تھے اس کا دور اب ختم ہوگیا، سری پرکاش اس کی آخری یادگار تھے، اب ایسے نمونے نہ پیدا ہوں گے۔ (شاہ معین الدین ندوی، جولائی ۱۹۷۱ء)