محمد عبیداللہ
حافظ محمود اختر
ادارہ علوم اسلامیہ
Mphil
University of the Punjab
Public
Lahore
Punjab
Pakistan
2012
Comparative Religion
Urdu
مخاصمہ ومجادلہ ، ابلاغ مذاہب
Interfaith Dialogue, Arugments
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676709336379
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | University of Okara, Okara, Pakistan | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Tanzeem Ul Mudaris Ahl e sunnat Pakistan, RAWALPINDI, Pakistan | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | Tanzeem-ul-Madaris Ahl-e-Sunnat Pakistan, Islamabad, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | University of Sargodha, سرگودھا | |||
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, Faisalabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولوی ابوالحسن علی فراہی اصلاحی
مولوی ابوالحسن علی فراہی اصلاحی ناظم مدرسۃ الاصلاح سرائے میر کئی ماہ سے بیمار تھے۔ علاج کے باوجود مرض بڑھتا گیا۔ بالاخر ۳۱؍ جنوری ۱۹۸۷ء کو وقت موعود آپہنچا اور رحلت کرگئے، اناﷲ و انا الیہ راجعون۔
وہ ترجمان القرآن مولانا حمیدالدین فراہیؒ کے حقیقی پوتے تھے، ان کی تعلیم مدرسۃ الاصلاح کے علاوہ شبلی نیشنل اسکول و کالج میں ہوئی تھی، گھر کے خوش حال تھے، اس لئے کوئی ملازمت کرنے کے بجائے زمین اور زمینداری کی دیکھ بھال کرتے رہے، لیکن قومی و ملی کاموں سے دلچسپی تھی، تقسیم کے زمانہ میں جمعیۃ علماء کانگریس کے پرجوش حامی تھے، تقسیم کے بعد صوبہ کانگریس کے ممبر بھی ہوئے، پھر پرانے کانگریسیوں کی طرح اس سے دل برداشتہ ہوکر لوک دل میں چلے گئے مگر اس سے بھی نباہ نہ کرسکے اور اب سیاسی جھمیلوں سے الگ ہوکر صرف مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کے لئے وقف ہوگئے تھے، جس سے اپنے دادا کی یادگار ہونے کی بناء پر ہمیشہ بہت تعلق رکھا، پہلے اس کے نائب ناظم ہوئے اور اب کئی برس سے ناظم ہوگئے تھے۔
وہ جس اخلاص، ایثار و قربانی سے کسی معاوضہ کے بغیر مدرسہ کی خدمت انجام دے رہے تھے، اس کی مثال کسی دینی مدرسہ میں کم ہی ملے گی، ان کے دور میں مدرسہ میں کئی عمارتیں تعمیر ہوئی، بعض مفید کام بھی انجام پائے، یہاں ان کے دادا کی یاد میں دائرہ حمیدیہ قائم ہوا تھا جس کو متحرک بنانے کے بڑے خواہشمند تھے، مرحوم کو دارالمصنفین سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ ان کے دادا مولانا حمیدالدین فراہیؒ کی سرپرستی میں اس کا آغاز ہوا تھا، ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی مولوی حاجی رشید الدین فراہی کو بھی اس ادارہ سے بڑی دلچسپی اور ہمدردی رہی۔
مرحوم مرنجان مرنج شخص تھے، طبیعت...