مرزاآصف بیگ
حافظ افتخار احمد
شعبہ علوم اسلامیہ
Mphil
The Islamia University of Bahawalpur
Public
Bahawalpur
Punjab
Pakistan
2007
2009
Comparative Religion
Urdu
مسلم غیرمسلم تعلقات
Muslim Non Muslim Relations
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676709338430
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | OU, اوکاڑہ | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | Haripur University, Haripur, Pakistan | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
آہ! سکندر علی وجد
(عبدالرحمن پرواز اصلاحی)
۱۶؍ مئی ۱۹۸۳ء کو اردو کے مشہور شاعر سکندر علی وجد کا انتقال ہوگیا۔ عمر ستر سال کی تھی، وہ ۲۲؍ جنوری ۱۹۱۴ء کو دیجاپور ضلع اورنگ آباد میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اورنگ آباد ہی میں ہوئی، اور وہیں ۱۹۳۰ء میں ان کی شاعری کا آغاز ہوا، اور اسی سال کالج میگزین ’’نورس‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوگئے تھے، ۱۹۳۵ء میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سے بی اے کی ڈگری لی، ۱۹۳۷ء میں حیدرآباد سول سروس کے امتحان مقابلہ میں کامیابی کے بعد عہدہ منصفی پر ان کا تقرر ہوا، ۱۹۵۲ء میں ریاست حیدرآباد کے ضلع سنگاریڈی میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی رہے، پھر ۱۹۵۶ء میں سیشن جج کے عہدے پر فائر ہوئے اور اسی سال ملک کی تنظیم جدید میں مہاراشٹر منتقل ہوئے، ۱۹۶۴ء میں قبل از وقت پنشن لی اور انجمن ترقی اردو مہاراشٹر کے صدر منتخب ہوئے، ۱۹۷۰ء میں انھیں ’’پدم شری‘‘ کا اعزاز ملا۔ ۱۹۷۲ء میں مہاراشٹر سے انھیں راجیہ سبھا کا ممبر بنایا گیا۔
وہ ۱۹۷۵ء میں مہاراشٹر اردو اکاڈمی کے نائب صدر منتخب ہوئے، غالب اکاڈمی دہلی نے ان کو ۱۹۷۷ء کا اکاڈمی ایوارڈ دیا، اسی سال اترپردیش اردو اکاڈمی نے ان کے مجموعہ کلام ’’بیاض مریم‘‘ پر تین ہزار کا انعام دیا، ان کی گوناگوں ادبی خدمات کی بناء پر انھیں ۱۹۸۱ء میں ترقی اردو بورڈ کا نائب صدر نامزد کیا گیا، وہ دارالمصنفین کے لائف ممبر بھی تھے۔
جب انھوں نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی، سروجنی نائیڈو، سر عبدالقادر، خواجہ حسن نظامی، جعفر علی خان اثر، قاضی عبدالغفار اور جگر مراد آبادی نے ان کی رعنائی خیال، حسن بیان اور رفعت فکر کی دل کھول کر داد دی اور بہت جلد وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار...