Nabeela Iqbal
Ibrahim Khalid
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2006
Completed
xiii, 122.
Education
English
Call No: 371 NAC; Publisher: Aiou
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676709518184
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | Riphah International University, Lahore, Pakistan | |||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
والیؔ آسی
۱۴؍ اپریل کو اردو کے ایک خوش گو اور خوش فکر شاعر والی آسی کا انتقال ہوگیا، انہیں شاعری اور اردو زبان کی خدمت کا ولولہ اپنے نامور والد، مولانا عبدالباری آسی مرحوم سے وارثت میں ملا تھا۔ والی مرحوم کی تعلیم ممتاز اسکول اور امیر الدولہ اسلامیہ کالج لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ جناب ساجد لکھنوی سے ان کی دوستی تھی، دونوں نے لاٹوش روڈ پر مکتبہ دین و دنیا قائم کیا، جہاں سے متعدد مجموعے شائع کئے، دونوں نے مل کر نعتیہ کلام کا ایک مجموعہ " ارمغانِ نعت" کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا تھا، جو بہت مقبول ہوا۔
والی مرحوم شریف، ملنسار مگر خود دار شخص تھے، صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے ان کی شاعری فکر و خیال کی مہارت اور اسلامی رنگ کی حامل ہوتی تھی، ان کے دو مجموعے ’’شہد‘‘ اور ’’موم‘‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں، رسالوں میں بھی ان کا کلام چھپتا رہتا تھا، مشاعروں میں بھی شریک ہوتے تھے، ان کا ترنم بہت اچھا تھا مگر اکثر تحت اللفظ پڑھتے تھے، آواز اتنی پاٹ دار ہوتی تھی کہ سامعین خود بہ خود متوجہ ہوجاتے تھے، اپنے جان دار کلام کی وجہ سے ملک کے علاوہ دوحہ، قطر، مسقط، جدہ، دبئی، لندن، اور نیویارک کے مشاعروں میں بھی مدعو کئے جاتے تھے، ان کے شاگردوں کا وسیع حلقہ تھا، جن میں مشہور شاعر منور رانا بھی ہیں، وہ بڑے یار باش تھے، امین آباد میں ان کی دکان پر دوست شاعروں کا جمگھٹ رہتا تھا۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں، جو آزادی کے پچاس ۵۰ برس گزرنے کی مناسبت سے کہے گئے ہیں:
کبھی کیا نہ کسی سے بیاں پچاس برس
کہ ہم نے کیسے گزارے یہاں پچاس برس
یہ چاہتے تھے قصیدہ ترا لکھیں لیکن
لہو میں ڈوبی رہیں انگلیاں پچاس...