Javed Iqbal
Shaista Majid
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
1998
Completed
74.;
Education
English
Call No: 371.912 JAS; Publisher: Aiou
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676709595337
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MEd | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MEd | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
MEd | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MEd | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
یونس رضوی
یونس رضوی(۱۹۲۷ئ) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ۱۹۴۹ء میں محکمہ انکم ٹیکس میں ملازمت حاصل کی۔ ۱۹۵۴ء میں فلم انڈسٹری لاہور سے رابطہ قائم کیا۔ آپ نے غزل ،نظم اور دیگر اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن فلم انڈسٹری سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ کی زیادہ توجہ گیت نگاری کی طرف تھی۔(۷۳۳) ان کا شعری کلام ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں چھپتا رہا۔ ایک شعری مجموعہ ’’میرے آنسو میرے گیت‘‘ ،زمزمہ پرنٹنگ پریس سیالکوٹ سے ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔
یونس نے اردو شاعری میں کوئی نئی اور انوکھی راہیں دریافت نہیںکیں ۔بلکہ وہ اپنی شاعری میں روایت پسندنظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری غم و اندوہ کی شاعری ہے۔ مگر ان کے ہر شعر کے پردے میں ایک ایسی چھپی ہوئی مضبوط انا کا وجود ملتا ہے۔ جو حوادث کی ستمرانیوں سے کبھی زخمی نہیں ہوتی۔ اور زندگی کا ہر آنے والا زخم انھیں پہلے سے کہیں زیادہ حوصلہ مند اوربا وقار بنا دیتا ہے۔یونس رضوی کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو:
شبِ سیاہ مکمل شبِ سیاہ نہ تھی
تمہاری زلف کا سایہ بھی اس میں ڈالا گیا
بساطِ عشق کی بازی تمام ہار گئے
مذاقِ عشق ہمارا بلند و بالا گیا(۷۳۴)
غم زمانے کا متاع جسم و جاں تک آگیا
آگ کا شعلہ لپک کر آشیاں تک آگیا
کٹ تو جائیں گے شب و روز فراق ان کے بغیر
دکھ یہی ہے کہ رونق شام و سحر جاتی رہی(۷۳۵)
گردش دوراں کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوں
زندگی کی ہر مسرت سے میں کوسوں دور ہوں(۷۳۶)