Muhammad Zahur Malik
Muhammad Aslam Asghar
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2000
Completed
ix, 69.
Education
English
Call No: 378.03 MUS; Publisher: Aiou
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676709603633
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PGD | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PGD | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
BCS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
جہاد کے نام پر اغوا کا کاروبار
جہاد کے نام پر اغوا کا کاروبار ایک المیہ ہے ہمارے معاشرے میں بہت سی تنظیمیں جن کا وجود اب معاشرے میں موجود ہے اور ان کی بہتات کی وجہ سے اکثر دشمن سادہ لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں کوئی مذہب کا واسطہ دے کر بچوں کے کچے ذہن سیکھیلتا ہے،تو کوئی وطن کی محبت کا لالچ دل میں ڈال کر ور غلاتا ہے۔غیرت کا سودا کرنے کا ہنر ایسی تنظیموں میں عروج پر پایا جاتا ہے۔گاؤں میں آکر ایسی تنظیمیں بچوں کو اپنے وطن کو خطرے میں بتا کر اور ان کے آباؤاجداد کے قصے سناکر ان کے ایمان کو ہتھیار بناکر کہ تم لوگ مومن ہو کیسے چپ بیٹھے ہو اور ان کوان کی مرضی سے یہاں سے ایک ایسی دنیا میں لے جایا جاتا ہے۔جہاں گھر والوں کو وہ اپنی مرضی سے چھوڑ چلے جاتے ہیں اور وہاں انھیں اپنے غلط عزائم کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ایسی ہی صورت حال کا ذکر اس نے بھی کہانی میں کیا ہے ایک ایسا گروہ جس نے گاؤں کے سکول میں آکر کچھ ایسے ہی کہانی سنا کر بچوں کو جہاد کے نام پر اپنے ساتھ لے گئے۔لکھتے ہیں :
’’کہتے ہیں جس یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ قوم بڑی ظالم ہیاور اس نے ہماری دیواروں کوچاٹ کر توڑ دیا ہے۔اگر انھیں نہ روکا گیا تو سب کو کھا جائیں گے۔اس لیے اپنے آپ کوبچانے کیلئے نکلو‘‘(13)
یہاں مصنف نے ناول کو ایک نیا موڑ دیا۔ عدیلہ جو کہ عماد کی ماں ہے وہ اپنے بیٹے کی جدائی میں اس گروہ کے پیچھے لگ گئی اور سارا ماجرا سامنے آگیا۔یعنی یہ تنظیم جو کہ جہاد کے نام پر ...