Muhammad Imran Nazir
Shaista Majid
Mphil
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2016
Completed
xvi, 76.
Education
English
Call No: 371.9 IMI; Publisher: Aiou
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676710137625
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Riphah International University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
نواب عالی مرحوم
صاحبزادہ مرزا حاجی ضمیر الدین صاحب عالی مرحوم نواب علاء الدین خاں صاحب علائی کے چوتھے اورسب سے چھوٹے لڑکے تھے۔مرحوم میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جواگلے بزرگوں میں ہوتی تھیں۔ وہ خاندان کے ایک ایسے فرد تھے جن کی موت نے خاندان پریہ واضح کردیا کہ اب اس کمی کوپورا کرنا بالکل ناممکن ہے۔
میرے رشتے کے ماموں تھے لیکن ان کی بزرگانہ شفقت ایسی تھی کہ حقیقی ماموؤں سے بڑھ کر تھی۔عربی فارسی کے متبحر عالم تھے نہ صرف عالم تھے بلکہ عالم باعمل۔ ان کے دل میں خدا کی تمام مخلوق کے دکھ سکھ کاپورا پورا خیال تھا۔ان کی موت سے بہت سی لاوارث عورتیں شکستہ دل ہوئیں اور بیکس یتیم بے سہارا رہ گئے۔ مرحوم کے حالات ذیل ان کے بھتیجے صاحبزادہ شمس الدین احمدخاں صاحب دیوان ریاست لوہارونے لکھ کر بھیجے ہیں جس کے لیے میں موصوف کی شکرگزار ہوں۔
آپ ۱۶؍دسمبر ۱۸۶۷ء کودہلی میں پیدا ہوئے۔ فخرالدولہ نواب علاء الدین احمدخاں بہادر فرمانروائے لوہارو کے پانچویں فرزند اورسب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ آپ کے باپ نے پیدائش کے وقت اپنی بیاض میں یہ درج فرمالیا تھا: ’’ تولدپسرِکامگار ہوشیار مرزا ضمیر الدین احمدخاں طال عمرہ درساعتِ سُنبلہ از بطنِ شمس النسا بیگم۔
مرزا غالب کے تعلقِ خاص کی تقریب سے نواب علاء الدین احمدخاں علائی کو دنیا جانتی ہے۔ شمس النساء بیگم دخترِ نواب جلال الدین خاں نبیرۂ امیرالامراء نواب نجیب الدولہ رئیس نجیب آباد ہیں۔ مرزا ضمیرالدین احمدخاں کی تعلیم وتربیت زیرِ نگرانی والد بزرگوار ہوئی۔بعض استاد ایرانی تھے۔ مثلاً مرزا ابو طالب شیرازی ابن سید ہاشم نجفی۔ نوعمری میں گھوڑے کی سواری کاشوق ہوا۔ لوہارومیں جرنیل صاحب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ گھوڑوں کی شناخت میں کمال رکھتے تھے۔اسلحہ کی شناخت میں خاص مہارت تھی۔خود گولی، بارود اور بندوق کی ٹوپیاں بنالیتے تھے۔ ریاست...