Search or add a thesis

Advanced Search (Beta)
Home > Impact of Radio Pakistan Sargodha on Agricultural Productivity

Impact of Radio Pakistan Sargodha on Agricultural Productivity

Thesis Info

Author

Bilal Ahmed

Supervisor

Muhammad Ijaz Ahmad Bhatti

Institute

Allama Iqbal Open University

Institute Type

Public

City

Islamabad

Country

Pakistan

Thesis Completing Year

2007

Thesis Completion Status

Completed

Page

101.;

Subject

Social Sciences

Language

English

Other

Call No: 302.2 BII; Publisher: Aiou

Added

2021-02-17 19:49:13

Modified

2023-01-06 19:20:37

ARI ID

1676710143379

Similar


Loading...
Loading...

Similar Books

Loading...

Similar Chapters

Loading...

Similar News

Loading...

Similar Articles

Loading...

Similar Article Headings

Loading...

المقدمة

المقدمة

الحمد ﷲ رب العالمین، رب الرحمۃ والمغفرۃ، والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین سیدنا وحبیبنا محمد وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین وبعد:

 لقد قسمت ھذا البحث إلی أربعۃ أبواب، وکل باب یحتوي علی فصلین، ثم قسمت الفصول إلی مباحث۔

 الباب الأول: المقارنة بين عصر نازک الملائكة وعصر بروين شاکر . وكتبت عن الأدب المقارن بشكل مختصر جداً وماالفرق بين الموازنة و المقارنة .

 وقسمت ھذا الباب إلی فصلین،

الفصل الأول: ماهو الأدب المقارن؟

 وفي ھذا الفصل تحدثتُ عن تعريف الأدب المقارن وما هو الموازنة والمقارنة؟، وبدایۃ الشعر الحر، وحقیقۃ الشعر الحر، وھل الشعر الحر نوع من النثر؟ ھل کانت حرکۃ الشعر الحر قویۃ أم لا؟ ثم تحدثت عن بعض شعراء وشاعرات العصر الجديد وأعطيتُ نُبذة مختصرة عنهم ، واتفاق الشعراء حول نازک الملائکۃ ومکانۃ نازک الملائکۃ بین الشاعرات (النساء) في عصرھا۔

والفصل الثاني: الشعر الجدید في شبہ القارۃ الھندیۃ۔

 وتکلمت في ھذا الفصل عن الأدب النسائي، والشاعرات الباکستانیات في اللغات المختلفۃ ثم الأدب النسائي في اللغۃ الأردیۃ وأھم الشاعرات بعد توحید الباکستان۔ ثم الأدب النسائي والعھد الحاضر وتکلمت عن الغزل وبروین شاکر وأعطیت نبذۃ بسیطہ عن بعض أشھر شعراء العصر الجدید۔

 لقد تحدثت في ھذا الباب عن دور النساء في الساحۃ الأدبیۃ والشعریۃ بصفۃ عامۃ وعن دور نازک الملائکۃ وبروین شاکر وکیف أن لھما مکانۃ خاصۃ في الساحۃ الشعریۃ وخاصۃ في الشعر الحر والحزین لأن کلتا الشاعرتان من مشجعي الشعر الحر والحزین فأکثر أشعارھما دلیل علی میزتھما الخاصۃ ھذہ۔والنتائج المأخوذة من هذا الباب.

 

الباب الثاني: الشاعرة العظيمة نازک الملائكة۔

 وقسمتُ ھذا الباب إلی فصلین،

الفصل الأول: نازک الملائكة رائدة الشعر العربي الحُر

(الشاعرۃ...

اسلامی ریاست کے مالیاتی نظام کا تصور ملکیت، محاصل و مصارف

The Islamic state has certain rules for taxes to generate income, which need to be followed within Islamic premises. In Islam, Kharāj is a type of individual Islamic tax on agricultural land and its product. At that time, kharaj was synonymous with jizyah, which later emerged as a per head tax paid by the dhimmis with complete ownership of all resources. Khums means " onefifth or 20%". In Islamic legal terminology, it means one-fifth of certain items that a person acquires as wealth must be paid to the Islamic State. This study is focused on the financial system of an Islamic state, its taxation and revenues.

اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات

اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات مقالے کو چھے ابواب میں تقسیم کیا ہے جن کی تفصیل یہ ہے : پہلا باب افسانے میں اسلوب اور تکنیک کی اہمیت کے بارے میں ہے۔ اس باب کے آغاز میں افسانے کی فنی مبادیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس صنف نے مغرب میں جنم لیا۔ اس لیے اس کے اصول بھی وہیں مرتب کیے گئے۔ لیکن اس صنف کی اردو میں آمد تک ہیئت کے اعتبار سے کئی تبدیلیاں آئیں۔ اسلوب اور تکنیک کے کئی تجربات ہوئے۔ اس باب میں ان باتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تکنیک اور اسلوب کے فنی مسائل پر بحث کی گئی ہے اور مغرب میں افسانہ نگاری کی روایت اور اس روایت کی بدلتی ہوئی صورتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ دوسرے باب کا تعلق اردو افسانے کے دورِ اولین سے ہے۔ پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم ہمارے دو ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی حیات ہی میں دبستان کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس طرح افسانوی نثر میں حقیقت نگاری اور رومانویت کو ارتقا کرنے کا موقع ملا۔ اسی باب میں سجاد ظہیر اور ڈاکٹر رشید جہاں کے مجموعے "انگارے" کا بھی تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مجموعے پر مغرب کی جدید تحریکوں کے اثرات ہیں۔ اس طرح رومانیت اور حقیقت نگاری کے علاوہ جدیدیت کی مغربی روایت کا جائزہ لیا ہے۔ تیسرے باب میں اردو افسانے کو ترقی پسند تحریک کے ساتھ اور حقیقت نگاری کی مقبولیت کے محرکات کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اردو افسانے کا زریں دور ہے۔ جب سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر، غلام عباس، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی ، راجندر سنگھ بیدی جیسے اہم افسانہ نگار سامنے آئے جن کی مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ترقی پسند تحریک ایک واضع منشور کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ اس منشور کا تقاضا تھا کہ جو کچھ لکھا جائے وہ حقیقت نگاری کے پیرائے میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں حقیقت نگاری کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن حقیقت نگاری میں بھی ہر بڑے افسانہ نگار نے اپنا انفرادی رنگ پیدا کیا ۔ اس باب میں جہاں ایک طرف حقیقت نگاری کی مقبولیت کے اسباب کا جائزہ لیا ہے وہاں پر اہم افسانہ نگار کی انفرادی خصوصیات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ چوتھا باب ترقی پسند عہد- اردو افسانے پر مغرب کے نفسیاتی و تکنیکی اثرات کے موضوع پر ہے۔ ترقی پسند عہد میں اگرچہ حقیقت نگاری کو مقبولیت حاصل ہوئی مگر سماجی شعور کے ساتھ ساتھ ایک حلقہ ایسا بھی تھا جس نے مغربی تحریکوں اور نظریات سے کسبِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا۔ خاص طور پر علمِ نفسیات کے اثرات بعض افسانہ نگاروں پر بہت نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس باب میں مغرب کے نفسیاتی و تکنیکی اثرات کا مجموعی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاروں کے انفرادی مطالعے بھی شامل ہیں۔ پانچواں باب "آزادی کے بعد اردو افسانہ" کے موضوع پر ہے۔ تقسیم ہند کے بعد فسادات کے موضوع پر بہت لکھا گیا۔ یہ المیہ جس نے انسانیت کے اخلاقی رویوں کی دھجیاں اڑا دی تھیں اپنے ساتھ کئی کہانیاں لے کر آیا۔ اس عہد میں افسانہ نگار کے رویے اور طریقہ اظہار کی جو صورتیں سامنے آئیں۔ ان کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فسادات کے زمانے میں معیاری افسانہ تعداد میں کیوں کم ہے۔ علاوہ ازیں فسادات کے بعد ہجرت کے کرب اور رومانویت کابھی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں جدید افسانے کا آغاز ہوا اسی باب میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جدید افسانے کے محرکا ت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ چھٹا باب جدید افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے نئے تجزیات کے مجموعی جائزے اور انفرادی مطالعوں پر مشتمل ہے۔ اس باب میں نئے افسانے کے فکری پس منظر، علامتی نظام اور اس کے فنی لوازم، اسلوب اور تکنیک کی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں ، ابلاغ کے مسائل ، نئے زاویہ نظر کی آمد اور علامتی افسانے کی مقبولیت کے محرکات کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساٹھ کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں بے شمار نام ایسے ہیں جو اپنا انفرادی رنگ رکھتے ہیں اس باب میں منتخب جدید افسانہ نگاروں کی تکنیک اور اسلوب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی انفرادیت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔