Islam-ud-Din
Pakistan Study Centre
MA
University of Peshawar
Public
Peshawar
Pakistan
1996
1998
Pak Studies
English
2021-02-17 19:49:13
2023-02-17 21:08:06
1676710722743
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
BS | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
BA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
MA | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
سبز بستیوں کے غزال
سانجھ پبلی کیشنز سے 2018ء میں چھپنے والا ناطق کی غزلیات کا ایک مجموعہ سر بستیوں کے غزال بھی ہے۔اس کتاب کا انتساب شمس الرحمان فاروقی کے نام ہے اس میں کل 54غزلیں شامل ہیں۔اس میں انہوں نے پنجاب کی سرزمیں ،کھیت کھلیان ،پھل پھول،ہریالی یہاں تک کہ پنجاب میں جڑے رشتے ،اسی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو اور اس سر زمین کے لیے جان دے دینے والے رشتوں کو اردو غزل میں شاعری کے ذریعے پروان چڑھایا ہے۔
علی اکبر ناطق نے اپنی تمام تر تحریری جمالیات کے ساتھ پنجاب کی خوبصورتی کو عیاں کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ان کی شاعری میں کچھ ایسے الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے جو کہ پنجابی کے ہیں یوں تو بہت سے شاعر حضرات ایسے ہیں جو اپنی شاعری میں پنجابی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔لیکن ناطق نے اردو غزل میں الفاظ کا اصل اور بالکل منفرد طریقے سے تخلیقی استعمال کیا ہے۔شمس الرحمٰن لکھتے ہیں:
’’ناطق کی غزل اپنے قصے کی دیواروں اور کھیتوں کی سبز مٹی سے جڑی ہے اس کی زبان کا خمیر اپنی دھرتی کی خوشبوؤں سے اٹھا ہے۔اس کا ایک ایک مصرع اس کے اٹوٹ سمبندھ کی گواہی دیتا ہے۔یہ ہنر آفر ین شعری طلسم کسی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ الہامی اور وجدانی توفیق کی جزا ہے جس میں ناطق کو اپنی شاداب و خوشی رنگ پائینوں والی دھرتی سے باندھے رکھا ہے۔‘‘(8)
ناطق کی شاعری میں جس طرح منظر نگاری سے کام لیا جاتاہے۔قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نقش بولتے ہیں۔ان منظروں میں وہ سماں ہوتا ہے کہ جیسے تاریخ خود اپنی وضاحت کررہی ہو۔ حال میں ہونے والے اور مستقبل...