Sanjeeda Haleema Bibi
Pakistan Study Centre
MA
University of Peshawar
Public
Peshawar
Pakistan
2002
2004
Pak Studies
English
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676710771068
اپنی مثال آپ
ڈاکٹر غلام شبیر اسدؔ
ہر چند شاعری تخلیقی محرک کی محتاج ہوتی ہے مگر موضوعی شاعری دراصل اس وقت زور دارہوتی ہے جب فیضان و عقل، جذبِ درروں اور بیدار قوتِ فیصلہ یا پھرشعور و لاشعور کے دھارے آپس میں مل جاتے ہیں۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں عرفان و وجدان اور فہم وخرد کی توانائی ایک دوسرے کو سہارتے ہوئے باہم آمیز ہو جاتے ہیں۔یہ حقائق اپنی جگہ بجا لیکن جب بھی کسی تخلیق کار کو اخلاقی موضوع کا سامنا کرنا ہوتا ہے تو شرطِ اوّل کے طور پر ذہنی وقلبی،نزہت و متانت ، نیاز مندی ،عاجزی و انکساری اور مثالی اسلوبِ کلام کا حامل ہونا لازم آتا ہے۔متحرک و منور اسلوب کی بنیادی غذا ،تخلیق کار کی شخصیت، حُبِ موضوع ،مقام کا حاملعلم و کردار ،تقویٰ و ایمان ،طبعی مناسبت، تہذیب کے اِساسی زاویوں سے آگاہی اور وفورِ شوق سے تیار ہوتی ہے۔اردو نعتیہ سرمائے کی متنوع جہات میں سیرتِ النبیﷺ کے حتی الامکان پہلوئوںکواجاگر کرنا کسی بھی شاعر کے لیے آزمائش سے کم نہیں ، پھر اس سے بڑی آزمائش ہیئت مسدس میں اظہار، جس کا مزاج ہمیشہ متقاضی رہا ہے کہ مترنم اور رواں دواں وسہل اوزان کے ساتھ ساتھ دلوں میںاترتا شفاف کومل لہجہ اورآبِ زُلال سے دھلی زبان شیتل سی مخمور لے پوری قدرتوں کے ساتھ بہم ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب لطائفِ پر نور روحِ بندگی سے میسر آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو معلومات کو شعر میں لانے سے ثقالت کا احساس حاوی رہتا ہے، جس کامسدس متحمل نہیں ہو سکتا۔
انھی موضوعی اور معروضی خوبیوں کے سبب پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ مسدس ہی ایک ایسی صنفِ سخن ہے جسے دنیا بھر کی مستند و اعلیٰ نظموں کے مدِ مقابل رکھا جاسکتا ہے۔
انیس، دبیر حالی ، چکبست ،امانت...