Faisal Shahzad
Zafar Iqbal
Mphil
Riphah International University
Private
Islamabad
Pakistan
2019
Completed
xiii, 32 . : ill., Col. ; 30 cm. +CD
Physics
English
Submitted in fulfillment of the requirements for the degree of Master of Philosophy in Physics to the Faculty of Basic Sciences and Humanities.; Includes bibliographical references.; Thesis (M.Phil.)--Riphah International University, 2019; English; Call No: 530.41 FAI
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676711201885
امین الدین !
اٹھ گئیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کس کو اور کس کا ماتم کیجئے
جناب شوکت سلطان کی وفات پر دل بے انتہا پژمردہ اور افسردہ تھا کہ دارالمصنفین کے ایک اور انتہائی ہمدرد، مونس اور غم گسار کی رحلت پر آنکھیں پھر اشکبار ہوئیں، اور وہ جناب امین الدین صاحب تھے، وہ کوئی صاحب قلم نہ تھے، شاعر بھی نہ تھے، علی گڑھ کے ایم۔اے، ال۔ ال۔ بی تھے، وکالت شروع کی، تو شہر میں مقبول بہت ہوئے، کچھ دنوں حکومت ہند کے آدرڈے نینس محکمہ میں بھی ملازم رہے، وہاں سے مستعفی ہوکر آئے۔ تو آنریری مجسٹریٹ ہوئے، پھر ریونیو افسر ہوگئے اور آخر میں شبلی نیشنل کالج میں قانون کے استاد اور اس کے شعبہ کے صدر ہوگئے۔ وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد خوش لباس، خوش رہائش، خوش کلام اور خوش باش بن کر بقیہ زندگی گزاری اور بالآخر ایک طویل علالت کے بعد ۳۱؍ جنوری ۱۹۸۶ء میں تقریباً ۸۵ برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے، انَّاﷲِ وَاِنَّا اِلیہ رَاجعُونَ۔ بس یہی ان کی زندگی کی مختصر روداد رہی ہے، مگر انھوں نے۱۹۳۰ء سے دارالمصنفین سے جس اخلاص، وضعداری اور محبت سے اپنے تعلقات کا سونا پگھلایا تھا وہ اس ادارہ کے لئے بیش قیمت سرمایہ رہا، وہ اس کے کسی قسم کے عہدیدار بھی نہ تھے، اس کی کسی مجلس کے رکن بھی نہ ہوئے لیکن ہر لمحہ اس کے دمساز رہے، وہ اس کے پھاٹک میں داخل ہوتے ہی اپنی محبت کے پھول بکھیرتے نظر آتے، اپنی بذلہ سنجیوں، لطیفہ گوئیوں اور شیریں بیانیوں سے ہم میں سے ہر شخص کو شاداں و فرحاں اور یہاں کی مجلس کو زعفران زار کردیتے، یہاں کی دعوتوں میں شریک ہوتے تو دسترخوان کو اس کے کھانوں سے زیادہ اپنی گفتار کی شیرینی سے لذیز تر...