Gulrukh Kakar
Kamran Azam Khan
MS
Riphah International University
Private
Islamabad
Pakistan
2017
Completed
vii, 63 . : ill. ; 29 cm. +CD
Management & Auxiliary Services
English
Submitted in partial fulfillment of the requirement for the degree of Master of Sciences to the Faculty Of Management Sciences; Includes Bibliographical references; Thesis (MS)--Riphah International University, 2017; English; Call No: 658.477 GUL
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676711421967
فلسفہ تعزیرات
وہ جرائم جو ہر انسانی معاشرے میں نہیں ہوتے بلکہ کسی معاشرے میں ہوتے ہیں اور کسی میں نہیں ہوتے۔ ان جرائم کی روک تھام اور سزاؤں کے حوالے سے شریعت مطہرہ نے بنیادی اصول وضع کردیے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس دور ، اس علاقے کے ارباب حل وعقد اور اولی الامر جو مناسب سزا مقرر کرنا چاہیں ، مقررکرسکتے ہیں ۔ نیز ان جرائم پر دین ، جان ، عقل ، نسل اور مال کی حفاظت کابھی انحصار نہیں۔ تعزیر کی سزا کے تقرر کے اصول مندرجہ ذیل ہیں:
1. سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اس سزا کا بنیادی مقصد امت مسلمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہو ، محض کسی ایک گروہ یا کسی ایک فرد کے مفاد کی حفاظت نہ ہو۔
2. دوسر ا اصول یہ ہے کہ وہ مصالح جن کو شریعت نے تسلیم کیا ہے اور جو شریعت میں قابل قبول ہیں ، ان میں سے کسی مقصد کا تحفظ اس سزا سے پورا ہوتا ہو ۔
3. تیسرا اصول یہ ہے کہ اس سزا کے نتیجے میں اس برائی کے کم ہونے کا امکان ہو، زیادہ پھیلنے کا اندیشہ نہ ہو ۔ سزا دینااصل میں ایک آپریشن کرنا ہے۔ بعض بیماریاں آپریشن سے ختم ہوجاتی ہیں اور بعض آپر یشن سے پھیل بھی سکتی ہیں ۔ اب یہ ڈاکٹر کا فرض ہے کہ آپریشن کرنے سے پہلے وہ اطمینان کرے کہ یہ بیماری آپریشن کرنے سے پھیل تو نہیں جائے گی ۔ اسی طرح سزا دینے سے پہلے حاکم یاجج کو دیکھنا چاہیے کہ اس سزا کے نتیجے میں برائی ختم ہوجائے گی یا مزید بڑھے گی۔
4. چوتھا اصول یہ ہے کہ جرم اور سزا کے درمیان تناسب ہو ۔ یہ نہ ہو کہ...