Muhammad Asad
Affan Iqbal
MS
Riphah International University
Private
Islamabad
Pakistan
2016
Completed
56 . : ill. ; 29 cm.
Medicine & Health
English
Submitted in fulfillment of the requirements for the degree ofMaster of Science to the Faculty Rehabilitation Sciences; Includes appendix andbibliographical references; English; Call No: 615.82 MUH
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676711891198
پروفیسر محمود الحسن
پروفیسر محمود الحسن(۱۹۵۹ئ۔پ) شاکرؔ تخلص کرتے ہیں۔ آپ جسٹر نارووال میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم ۔اے اردو بہاولپور یونیورسٹی سے کیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور سے بطور لیکچرار اردو ملازمت کا آغاز کیا۔ آج کل گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سکول کے ادبی ماحول نے انھیں شعر لکھنے کی طرف راغب کیا۔ آٹھویں جماعت میں ۱۳ سال کی عمر میں شعرو شاعری کا آغا زکیا۔ ابتدائی راہنمائی احسان دانش سے لی اور احسان دانش ہی شاعری میں شاکرؔ کے اُستاد ہیں۔(۱۰۸۸)
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے میگزین ’’پطرس‘‘ میں سب سے پہلے طالب علمی میں آپ کا شعری کلام شائع ہوا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’سسکیاں فرشتوں کی‘‘ عمیر پبلشرز لاہور نے ۱۹۹۷ء کو شائع کیا۔’’گلاب کھلنے دو‘‘ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ جسے عمیر پبلشرز لاہور نے ۱۹۹۸ء میں شائع کیا۔ تیسرا شعری مجموعہ ’’آنکھیں چپ ہیں‘‘ پارس پبلشرز لاہور نے شائع کیا۔ ’’آدم زاد کو کیا سمجھائیں‘‘ چوتھا شعری مجموعہ ہے۔ جسے خزینہ علم و ادب لاہور نے ۲۰۰۶ء میں شائع کیا۔ پانچواں شعری مجموعہ ’’الم ۔نشرح‘‘ ہے۔ شاکر نظم اور غزل کے شاعر ہیں لیکن ان کے ہاں دیگر اصناف سخن ،قطعہ اور گیت اور نظمِ آزاد بھی ملتی ہے۔
سعد اللہ شاہ شاکرؔ کی نظم کے بارے میں کہتے ہیں:
یہ زمانہ افسانچے اور چھوٹی نظم کا ہے۔ محمود الحسن شاکر نے پانچ مصرعوں پر مشتمل نظم کا تجربہ کیا ہے۔ جس کے آخری دو مصرعے ہم قافیہ ہیں۔ ان کی یہ کاوش انتہائی خوش گوار ہے۔ انھوں نے اپنے عصری مسائل کا احاطہ شاعرانہ انداز میں کیا ہے۔ وہ ظاہر و باطن میں پر خلوص پاکستانی نظر آتے ہیں۔ جو اپنے مستقبل سے مایوس نہیں بلکہ ان کی بعض نظموں میں اُمید کی روشن کرن نوید صبح بن کر ابھرتی...