اقصی انوار
آنسہ احمد سعید
Mphil
Riphah International University
Private
Faisalabad Campus
Faisalabad
Punjab
Pakistan
2019
Completed
vi, 178 . : ill. ; 30 cm.
Urdu Literature
Urdu
Submitted in fulfillment of the requirements for the degree of Master of Philosophy in Urdu.; Includes bibliographical references; Thesis (M.Phil)--Riphah International University, 2019; Urdu; Call No: 891.43 AQS
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676712193846
کیا بچوں کے لیے جو لکھا جا رہا ہے وہ اُن کے لیے مناسب ہے؟
میں نے اس سوال کو بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔
میں نے گزشتہ چار برسوں میں جو پڑھا ہے،وہ میرے لیے بہت حیران کن ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ نامور رسائل میں بھی کچھ ایسی کہانیاں پیش ہو رہی ہیں جن پر بہت زیادہ اعتراضات کیے جا سکتے ہیں اور خوش قسمتی سے اُن کے مدیران اتنے مہربان ہیں کہ جن کی کہانیوں میں سنگین اعتراضات اُٹھائے جا سکتے ہیں۔ اُن لکھنے والوں کو مسلسل شائع کیے جا رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ نامناسب جملوں،شادی، زچگی، عشق اور دیوانگی پرمبنی داستانوں تک کو شائع کر دیا جاتا ہے کہ مغرب میں اس طرح کی کہانیوں کی اشاعت بچوں کے لیے بہت سود مند تصور ہوتی ہیں۔
بچوں کو اگر ایک خاص عمر سے قبل کچھ بتانا جائز ہے تو پھر ہمارے معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔اس حوالے سے لکھنے والوں کی یہ دلیل وزنی نہیں ہے کہ جدید دور میں نونہالوں کے پاس انٹرنیٹ ہے اور کچھ بھی ان سے چھپا نہیں ہے۔ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ کم سے کم پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچوں کے پاس جدید سہولیات تک نہیں ہیں۔ وہ آج بھی ویسے ہیں جیسے پچاس سال قبل کے نونہال تھے۔اُن کے پاس نئی معلومات پہنچ جاتی ہوں گی لیکن چوں کہ اُن کا براہ راست تجربہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کسی بات پر یقین نہیں کر سکتے ہیں، وہ تب یقین کریں گے جب وہ کسی تجربے سے گزریں گے۔
ایک رسالہ گھر کے سربراہ کی مانند ہوتا ہے اگر وہی غلط روایت قائم کرے گا توپھر پیروی بھی اسی کی ہوگی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ کہانیوں پر اعتراضات کو قبول کیے جانے...