Aamir Ijaz; Azhar Imran Mughal, M.; Noman Sharif
University of Management and Technology
MCS
University of Management and Technology
Private
Lahore
Punjab
Pakistan
2000
Completed
200 .
English
Report presented in partial requirement for MCS degree Advisor :; EN; Call No: TP 005.107 AAM-E
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 20:38:09
1676712955587
مولانا احتشام الحق تھانوی
افسوس ہے کہ پاکستان کے نامور عالم اورشیریں بیاں خطیب ومقرر مولانا احتشام الحق تھانوی اجلاس صد سالہ کے تین دن بعد دیوبند پہنچے اوروہاں سے مدراس گئے۔جہاں وہ اس سے پہلے بھی کئی بار آچکے تھے وہاں سے بمبئی کاارادہ تھا کہ وانمباڑی میں اچانک دل کادورہ پڑااورجاں بحق ہوگئے۔اناﷲ واناالیہ راجعون۔ جنازہ کراچی پہنچایاگیا اوروہیں تدفین ہوئی مرحوم کااصل وطن تھانہ بھون تھا۔ایک دور کے رشتہ سے حضرت مولانا تھانوی کے بھانجے بھی تھے۔ والد اٹاوہ میں ملازم تھے مرحوم کی پیدائش۱۹۱۵ء میں وہیں ہوئی، تعلیم دارالعلوم دیوبند میں پائی۔یہاں سے فراغت کے بعد اپنے برادر بزرگ مولوی عزیز الحق صاحب جوگورنمنٹ آف انڈیا کے کسی محکمہ میں افسر اعلیٰ تھے اورنئی دہلی میں خواجہ میردرد روڈ پررہتے تھے ان کے پاس چلے آئے اوراسی علاقہ کی ایک مسجد میں خطیب مقررہوگئے۔روزانہ فجر کی نماز کے بعدقرآن مجید کادرس دیتے اورجمعہ کے دن وعظ کہتے تھے۔ آدمی تھے خوش الحان اورشریں بیان ،اس لیے مقبولیت بڑھنے لگی۔ملازمت کے ساتھ انہوں نے مدرسہ عالیہ مسجد فتح پوری کی مولوی فاضل کلاس میں داخلہ لے لیا۔میں اس کلاس کاسینئر استاذ تھا اس بناپرمرحوم میرے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے، کلاس میں پابندی سے آتے اور درس ہمہ تن متوجہ ہوکرسنتے اورکبھی کبھی سوال بھی کر تے تھے۔مولوی عزیز الحق صاحب سے تعلق پہلے سے تھا ہی، اب مرحوم سے بھی قریبی تعلق پیدا ہوگیا۔ان کی مسجد میں سیرت مقدسہ کایاکوئی اورجلسہ ہوتاتوتقریر کے لیے مجھے بالالتزام بلاتے تھے۔
تقسیم کے وقت اپنے خاندان کے ساتھ ترک وطن کرکے کراچی میں جا بسے۔یہاں بہت کچھ چمکے اوربڑانام پیداکیا۔ریڈیو پرایک عرصہ تک روزانہ قرآن مجید کادرس دیتے رہے، قرآن مجید اورمثنوی مولانا روم بڑی خوش الحانی سے پڑھتے اوراس لیے عوام وخواص میں بڑے مقبول تھے۔ بیرونی ممالک جہاں اردو بولی اورسمجھی جاتی ہے وہاں...