Shahid Iqbal Tahir
Rao Jaleel Ahmed
University of Management and Technology
MA
University of Management and Technology
Private
Lahore
Punjab
Pakistan
2003
Completed
55 .
Education
English
Report presented in partial requirement for M.A. degree Advisor: Rao Jalil Ahmed; EN; Call No: TP 373.1102 SHA-T
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676713179572
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | University of Management and Technology, Multan, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MSc | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
اثر صہبائی کی ادبی خدمات
اثر صہبائی (۱۹۰۱۔۱۹۶۱ء) کا اصل نام خواجہ عبد السمیع پال تھا۔ اثر ؔسیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اثرؔ کے بزرگوں نے کشمیر سے ہجرت کی تھی اور سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے۔ آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔ اے فلسفہ اور ایل ایل بی کیا۔ ۱۹۳۱ء میں ان کی رفیقہ حیات ان سے جدا ہو گئیں تو افسردگی ‘ تاریکی اور مایوسی کے بادل ان کی زندگی پر چھا گئے۔ ۱۹۳۴ء میں آپ اس غم و اندوہ کییورش سے گھبرا کر سری نگر کشمیر چلے گئے۔ کشمیر میں ان دنوں ادبی مجلسیں اور ادبی نشستیں ہو رہی تھیں جن میں ڈاکٹر عبد الحکیم‘ نواب جعفر خان اثر لکھنوی‘ ڈاکٹر تاثیر اور پنڈت برج موہن دتاتر یہ کیفی دہلوی جیسے شعراء و ادبا شرکت کرتے تھے۔ اثر ان ادبی محفلوں کے روح رواں ہوتے تھے۔ آپ نے کشمیر ہائی کورٹ میں قائد اعظم کے ساتھ جونیئر وکیل کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ قائد اعظم نے مقدمہ جیتنے کے بعد صہبائی کی محنت کو سراہا۔(۱)
اثرؔ صہبائی کی پہلی تصنیف ’’جامِ صہبائی‘‘ ہے۔ قطعات و رباعیات پر مشتمل یہ شعری مجموعہ ۱۹۲۸ء میں دارالتالیف بیڈن روڈ لاہور سے طبع ہوا۔
’’خمستان‘‘ اثر کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو غزلوں‘ نظموں‘ قطعات و رباعیات اور متفرق اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن۱۹۳۳ء میں آزاد بک ڈپو سیالکوٹ سے شائع ہوا۔ اثر ؔکا تیسرا شعری مجموعہ ’’جامِ طہور‘‘ ۱۹۳۷ء کو تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور نے طبع کیا۔ اس مجموعے میں رباعیات اور قطعات ہیں۔ ’’راحت کدہ‘‘ اثر ؔکا چوتھا شعری مجموعہ ہے جو ۱۹۴۲ء میں تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور کے زیر اہتمام طبع ہو کر شائع ہوا۔’’ راحت کدہ ‘‘حضرت اثر صہبائی کے اس کلام پر مشتمل ہے جو انہوں نے اپنی جواں مرگ رفیقہ حیات راحت کی موت سے متاثر ہو کر...