Abdul Basit Warsi; H. M. Zia Ul Hassan; Zeeshan Khan
UMT. School of Engineering
University of Management and Technology
Private
Lahore
Punjab
Pakistan
2015
Completed
172 . CD
English
EN; Call No: TP 005.74087 ABD-H
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 22:59:41
1676713366876
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
BCS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
MS | Riphah International University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا مودودی ؒ کو اپنے رفقاء سمیت اکتوبر ۱۹۴۸ء میں گرفتارکیا گیا۔آپ کونہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ آپ کی جماعت کے اخبارات " کوثر" ،" جہاں نو" اورروزنامہ " تسنیم " بھی بند کردیےگئے۔ اس وقت حکمران طبقہ پر استعماری غلبہ تھا ۔جبکہ مولانا مودودیؒ کاکہنا تھاکہ پاکستان کے قیام کااصل مقصد اسلامی نظام کاقیام ہے ۔ آپ پرجہادکشمیر کے مخالف ہونے کاالزام لگایا گیا ۔اپنی پہلی قید وبند کی صعوبت کاذکر مولانا نے اس طرح کیاہے :
"میں نے اپنی پہلی نظربندی میں لکھنے پڑھنے کا خاصا کام کیا ۔مسئلہ ملکیت زمین مرتب کی ۔ تفہیم کا مقدمہ لکھا۔حدیث کی کتاب ابوداؤد کاانڈکس تیارکیا۔کتاب" سود" اور"اسلام اورجدید معاشی نظریات" بھی وہیں مکمل کیں ۔ خداکاشکر ہے کہ میراوہاں ایک دن بھی ضائع نہیں ہوا " ۔[[1]]
مولانا مودودی ؒ کی سزا پر پوری دنیا سراپا احتجاج تھی۔لیکن مولانا مودودی ؒ فوجی عدالت کے فیصلے سے بالکل بھی نہ گھبرائے۔ مولانا ؒ نے اپنے ساتھیوں کو سزا کے خلاف رحم کی اپیل نہ کرنے دی۔مولانا نے فرمایا:
" نہیں ہرگز نہیں ! میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے یامیرے خاندان کے کسی فرد کی طرف سے یاخود جماعت کی طرف سے کوئی رحم کی درخواست پیش کی جائے" [[1]]
مولانا نے اپنے بیٹے عمر فاروق کو تسلی دی اور گھبرانے سے منع فرمایا۔ مولانا نے سزا کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی مولاناؒ کا کہنا تھا کہ اگر میں ظالم حکمرانوں کے سامنے دب گیا تو پھر ملک سے انصاف ختم ہوجائے گا ۔
آخر کار حکومت نے خود ہی سزائے موت کو ۱۴ سال کی قید میں تبدیل کردیا۔ جیل سے رہائی کے بعد مولانا مودودی ؒ نے دین کے کام کو آگے بڑھایا ۔