محمد حنیف خان
عبد العزیز ساحر
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2012۔
Completed
324 ص
Other Literature
Urdu
Call No: 891.4391 ح ن ا; Publisher: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676714386668
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | University of Sindh, Jamshoro, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Government College University Faisalabad, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Sargodha, سرگودھا | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
PhD | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
قوانین حدود و قصاص قوانین کی تنفیذ نفاذ کی جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ جاتا ہے ۔ اکثر اوقات ان کا دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ ہماری طاقتور حکومتیں اور معزز اشرافیہ اس دباؤ کے تحت اسلامیانے کے عمل سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ اور اثرات کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں، جیساکہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں جب ہماری پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اس وقت اسمبلی میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ شناختی کارڈ میں یہ لکھا جائے گا کہ شناختی کارڈ ہولڈر مسلمان ہے یا غیرمسلم اور اگر غیر مسلم ہے تو عیسائی ہے ، ہندو ہے یا قادیانی ۔ اسمبلی کے اس فیصلے پر1992ء تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ جب 1992ء میں نئے شناختی کارڈ بننے لگے اور پرانے کارڈ منسوخ کیے جانے لگے تو حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسمبلی کے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھا جائے۔ لیکن بہت سی غیر ملکی طاقتوں اور تنظیموں نے اس کی مخالفت کی اور ان کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا کہ شناختی کارڈوں میں مذہب کا خانہ نہ رکھا جائے۔ حکومت نے اس غیر ملکی دباؤ پر اس فیصلہ کوواپس لے لیا۔
پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں غیر ملکی دباؤ کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جس کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون(Blasphemy Law) قیام پاکستان کے بعد کا نیا قانون نہیں ہے۔ یہ قانون آج سے بہت پہلےکا بنا یا ہوا ہے۔ انگریزوں کے دور میں 1927ء میں The Criminal Law Amendment Act XX کے تحت انڈین پینل کوڈ 1860ء میں ایک...