محمدایوب صابر
محمد صدیق خان شبلی
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
Completed
299 ص
Urdu
Call No: 013.81 م ح ا; Publisher: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676714406599
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
جمہوریت سے ہی پاکستان کا مستقبل ہے
ہر کس و ناکس کی پیہم جد و جہد اس کے مستقبل کے نکھار کے لیے ہوتی ہے۔ گذشتہ راصلوۃ آئندہ را احتیاط کے پیشِ نظر ماضی کو کر ید نا اہلِ لب کا شیوہ نہیں ہوتا صرف واقعات سابقہ سے حصول عبرت منشاء و مراد ہوتی ہے۔ حال کوبحسن و خوبی گزارنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی درخشندگی و تابندگی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ جو پھر گیسوئے گیتیء استقبال میں مشاطگی کا فن سیکھ لیتا ہے۔ نابغۂ روزگارگردانا جاتا ہے۔
کوئی اپنا مستقبل سنوارتا ہے، کسی کی آواز یہ انگڑائیاں لیتی ہے کہ افراد خانہ کا مستقبل روشن ہو جائے ،کسی کی تمنایہ ہوتی ہے کہ میری قوم کا مستقبل مستنیر و منور ہو جائے ،کسی کے دل و دماغ کے کونے کھدرے میں یہ بات مہیمز ثابت ہونا شروع ہوتی ہے کہ روشن مستقبل ہی حاصل حیات ہے اور وہ اسی میں اپنی حیاتِ مستعار کے عظیم لمحات صرف کردیتا ہے۔
کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جو انفرادی کے بجائے اجتماعی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ اور پورے ملک کے لیے اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ وہ درخشندہ و تابندہ مستقبل کی فضاء میں سانس لے۔ پاکستان کے مستقبل کی یہ خواہش صرف اور صرف جمہوری طرزعمل سے ہی پوری ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے ہرشخص کی عزت و احترام صرف اور صرف جمہوریت سے ہی وابستہ ہے۔
جمہوریت میں ہر شخص کو گفتگو کی، تحریر کی، تقریر کی آزادی ہوتی ہے، وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی آواز ایوانوں تک پہنچا سکتا ہے، اور اُس کی حق وصداقت پر مبنی آواز سے ایوان بالا کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں ، ایوانوں میں موجود عوامی نمائندگان کی سوچ فلاح انسانیت کے کاموں کی تکمیل کے لیے مستعدومتحرّک ہو...