اسرار الحسن بخاری، سید
فتح محمد ملک
Mphil
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2009
Completed
209 ص
Urdu
Call No: 013.81 ا س ت; Publisher: شعبہ اقبالیات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676714470882
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | The University of Haripur, ہری پور | |||
BS | Government Post Graduate Islamia College for Women, Lahore, Pakistan | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | The University of Haripur, ہری پور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Hazara University Mansehra, مانسہرہ | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولوی محمد مسعود خاں
افسوس ہے کہ ۳؍ جولائی ۲۰۰۲ء کو مشہور قومی کارکن مولوی محمد مسعود خاں ایک سڑک حادثے میں دہلی میں وفات پاگئے، وہ ایک دین دار گھرانے کے فرد تھے، ان کے بڑے بھائی مولانا محمد سعید خاں شبلی نیشنل اسکول میں ہڈ مولوی اور سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے شیخ طریقت تھے، جن کی ذات سے لوگوں کو بڑا فیض پہنچا، مسعود خاں صاحب نے شروع میں دینی تعلیم حاصل کی، پھر بی۔اے ایل ایل بی کر کے اعظم گڑھ کی کلکٹری کچہری میں وکالت شروع کی۔
قوم و ملت کی خدمت کی جانب ان کا طبعی میلان تھا، اس لیے وکالت کے ساتھ اپنے جدید وطن منگراواں کے مکتب کو عربی مدرسہ کی شکل دے دی، ہر سال گرمیوں میں اس کے جلسے کراتے جن میں جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہارویؒ بھی تشریف لاتے تھے۔
جمعیۃ علما سے تعلق کے باوجود وہ کانگریس سے اس کے متعصبانہ اور مسلم دشمن رویے کی بنا پر سخت بیزار تھے، اس لیے مسلم مجلس میں شامل ہوگئے تھے، لیکن ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے انتقال کے بعد اس کے حصے بخرے ہوگئے، تو انہوں نے چودہری چرن سنگھ کی پارٹی کا انتخاب کرلیا اور وفات تک اسی کے ساتھ تھے، اس وقت لوک دل (اجیت) کی ریاستی شاخ کے صدر تھے، ان میں بڑی تنظیمی صلاحیت تھی اور وہ ایک ایمان دار اور عملی آدمی تھے، اس کی وجہ سے پارٹی میں ان کا وزن تسلیم کیا جاتا تھا، اس کے ٹکٹ پر وہ کئی بار یو۔پی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، پھر راجیہ سبھا کے ممبر ہوئے، اس وقت بھی یو پی کونسل کے ممبر تھے۔
۱۹۷۷ء میں مسٹر رام نریش یادو کی سربراہی میں اترپردیش میں جنتا پارٹی کی حکومت بنی تو مسعود خاں پی۔ڈبلو۔ڈی منسٹر ہوئے اور...