مولانا حامد علی خاں مرحوم
رام پور کسی زمانہ میں دارالعلوم اوردارالعلماء تھا۔یہاں کی گلی گلی کے اندر اونچے سے اونچے علماء موجود تھے۔طلباء کی بھی انتہائی کثرت تھی۔ہزاروں کی تعداد میں یہاں طلباء موجود رہتے تھے جس میں افغانی،پنجابی،بنگالی،آسامی،برما اوررنگون تک کے رہنے والے یہاں آتے تھے۔خود مقامی آدمیوں کوبھی انتہائی ذوق تھا کہ وہ عربی اورفارسی پڑھیں اوراس میں کمال حاصل کریں۔
یہاں پرفارسی کے باکمال حضرات میں سے مولوی عبدالرزاق خاں طالبؔ(متوفی۱۹۱۶ء)مولوی حسین شاہ خاں نامیؔ(م۱۸۹۴ء)بڑے بڑے قابل فارسی داں ہوئے۔عربی داں حضرات میں یہاں پرکچھ تومقامی علماء ہوئے اور کچھ بیرونی علماء نے یہاں آکر سکونت اختیار کرلی۔بیرونی علماء میں سے مولانا عبدالعلی بحرالعلوم(م۱۱۲۵ھ)تین سال تک رام پور میں رہے۔ملا محمد حسن لکھنوی عرصۂ دراز تک یہاں پررہے، یہیں شادی کی اور یہیں۱۷۸۴ء/۱۱۹۹ھ میں انتقال فرمایا۔ مولوی فضل حق صاحب خیرآبادی (م۱۸۶۱ء)مولوی عبدالحق خیر آبادی (م۱۸۹۹ء) بھی یہاں مقیم رہے۔عبدالحق خیرآبادی کے صاحبزادے مولوی اسد الحق صاحب نے بھی یہیں پر۱۳۱۸ھ/۱۹۰۰ء میں انتقال فرمایا۔
مقامی علماء میں سے مولانا فضل حق رامپوری بڑے جلیل القدر علامہ ہوئے۔ برما سے لے کر بخارا تک ان کا چرچا تھا۔انھوں نے بڑی گراں قدر تصانیف چھوڑی ہیں کہ جن کے پڑھنے والے اور پڑھانے والے بھی اب دنیا میں موجود نہیں رہے۔مولانا موصوف میرے استاذ تھے اور عرصۂ دراز تک مدرسہ عالیہ کے پرنسپل رہے۔ ۱۹۴۰ء میں وصال ہوگیا۔ مولانا منور علی صاحب (م۱۹۳۳ء) یہاں کے مشہور محدث تھے۔ان کے استاذ الاستاذ میاں محمد شاہ صاحب (۱۹۲۰ء)اوران کے استاذ میاں حسن شاہ صاحب(م۱۳۱۲ھ)محدثین کرام میں سے تھے۔مولوی اکبر علی خاں صاحب(م۱۳۰۲ھ)بھی یہاں کے مشہورومعروف محدث تھے، مولانا عبدالعلی خاں ریاضی داں (م۱۳۰۳ھ) اور مولوی عبدالعلی صاحب منطقی(م۱۲۷۸ھ)بھی یہاں کے مشہور عالم ہوئے۔ الغرض یہ حضرات وہ تھے کہ جن میں سے بعض کو میں نے خود بھی دیکھا تھا۔ میرے طالب علمی کے زمانہ میں مولوی...
The era of caliphate was the golden era of Islam. In this era the boundaries of Islamic state spread far and wide. From the caliphate of Abubakkar saddique (RA) Islamic conquest had started. At that time the Muslim armies reached Syria and Byzentine. But the first arrival of sahaba in Afghanistan was in the caliphate of Hazrat Umar (RA). The torchbearer of Islam came here for the preaching of Islam and to lead these people and turn their lives according to Quran and Sunnah. Before the advent of Islam Afghanistan was the centre of Buddhist and other several faiths. Through the efforts of these companions of Muhammad (S.A.W) Islam got spread through the mountains and deserts of Afghanistan and all the Pathan tribes enter in the holy deen. In the following lines we will discuss thier efforts and journeys towards Afghanistan.
اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات مقالے کو چھے ابواب میں تقسیم کیا ہے جن کی تفصیل یہ ہے : پہلا باب افسانے میں اسلوب اور تکنیک کی اہمیت کے بارے میں ہے۔ اس باب کے آغاز میں افسانے کی فنی مبادیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس صنف نے مغرب میں جنم لیا۔ اس لیے اس کے اصول بھی وہیں مرتب کیے گئے۔ لیکن اس صنف کی اردو میں آمد تک ہیئت کے اعتبار سے کئی تبدیلیاں آئیں۔ اسلوب اور تکنیک کے کئی تجربات ہوئے۔ اس باب میں ان باتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تکنیک اور اسلوب کے فنی مسائل پر بحث کی گئی ہے اور مغرب میں افسانہ نگاری کی روایت اور اس روایت کی بدلتی ہوئی صورتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ دوسرے باب کا تعلق اردو افسانے کے دورِ اولین سے ہے۔ پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم ہمارے دو ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی حیات ہی میں دبستان کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس طرح افسانوی نثر میں حقیقت نگاری اور رومانویت کو ارتقا کرنے کا موقع ملا۔ اسی باب میں سجاد ظہیر اور ڈاکٹر رشید جہاں کے مجموعے "انگارے" کا بھی تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مجموعے پر مغرب کی جدید تحریکوں کے اثرات ہیں۔ اس طرح رومانیت اور حقیقت نگاری کے علاوہ جدیدیت کی مغربی روایت کا جائزہ لیا ہے۔ تیسرے باب میں اردو افسانے کو ترقی پسند تحریک کے ساتھ اور حقیقت نگاری کی مقبولیت کے محرکات کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اردو افسانے کا زریں دور ہے۔ جب سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر، غلام عباس، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی ، راجندر سنگھ بیدی جیسے اہم افسانہ نگار سامنے آئے جن کی مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ترقی پسند تحریک ایک واضع منشور کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ اس منشور کا تقاضا تھا کہ جو کچھ لکھا جائے وہ حقیقت نگاری کے پیرائے میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں حقیقت نگاری کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن حقیقت نگاری میں بھی ہر بڑے افسانہ نگار نے اپنا انفرادی رنگ پیدا کیا ۔ اس باب میں جہاں ایک طرف حقیقت نگاری کی مقبولیت کے اسباب کا جائزہ لیا ہے وہاں پر اہم افسانہ نگار کی انفرادی خصوصیات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ چوتھا باب ترقی پسند عہد- اردو افسانے پر مغرب کے نفسیاتی و تکنیکی اثرات کے موضوع پر ہے۔ ترقی پسند عہد میں اگرچہ حقیقت نگاری کو مقبولیت حاصل ہوئی مگر سماجی شعور کے ساتھ ساتھ ایک حلقہ ایسا بھی تھا جس نے مغربی تحریکوں اور نظریات سے کسبِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا۔ خاص طور پر علمِ نفسیات کے اثرات بعض افسانہ نگاروں پر بہت نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس باب میں مغرب کے نفسیاتی و تکنیکی اثرات کا مجموعی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاروں کے انفرادی مطالعے بھی شامل ہیں۔ پانچواں باب "آزادی کے بعد اردو افسانہ" کے موضوع پر ہے۔ تقسیم ہند کے بعد فسادات کے موضوع پر بہت لکھا گیا۔ یہ المیہ جس نے انسانیت کے اخلاقی رویوں کی دھجیاں اڑا دی تھیں اپنے ساتھ کئی کہانیاں لے کر آیا۔ اس عہد میں افسانہ نگار کے رویے اور طریقہ اظہار کی جو صورتیں سامنے آئیں۔ ان کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فسادات کے زمانے میں معیاری افسانہ تعداد میں کیوں کم ہے۔ علاوہ ازیں فسادات کے بعد ہجرت کے کرب اور رومانویت کابھی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں جدید افسانے کا آغاز ہوا اسی باب میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جدید افسانے کے محرکا ت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ چھٹا باب جدید افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے نئے تجزیات کے مجموعی جائزے اور انفرادی مطالعوں پر مشتمل ہے۔ اس باب میں نئے افسانے کے فکری پس منظر، علامتی نظام اور اس کے فنی لوازم، اسلوب اور تکنیک کی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں ، ابلاغ کے مسائل ، نئے زاویہ نظر کی آمد اور علامتی افسانے کی مقبولیت کے محرکات کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساٹھ کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں بے شمار نام ایسے ہیں جو اپنا انفرادی رنگ رکھتے ہیں اس باب میں منتخب جدید افسانہ نگاروں کی تکنیک اور اسلوب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی انفرادیت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔