عمران تبسم، محمد
اورنگ زیب عالمگیر
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
2007
Completed
245 ص
Other Literature
Urdu
Call No: 891.439104 ع م ا; Publisher: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676714645900
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
- | University of Management & Technology, لاہور | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
Mphil | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
سیالکوٹ میں اردو شاعری کا ارتقاء(۱۹۴۷ ء تا۲۰۱۰)
سیالکوٹ ایک تاریخی اور ادبی خطہ رہا ہے۔ اس کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے ۔یہ خطہ جغرافیائی لحاظ سے اس مقام پر واقع ہے جہاں کئی آبی گذرگاہیں ہیں۔ کشمیر اور پنجاب کے دیگر تجارتی شہروں سے اس کا قریبی رابطہ ہے۔ سیالکوٹ تاریخی، ثقافتی، سماجی، تہذیبی، علمی اور ادبی لحاظ سے لاہور اور دوسرے ادبی، ثقافتی، تہذیبی، تاریخی اور علمی شہروں سے کسی طور پر بھی کم نہیں ۔ اس شہر کی ثقافت توانائی اور رنگا رنگی لیے ہوئے ہے۔ یہاں کے میلے ٹھیلے، روایتی تہوار اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں اس خطے کو ہمیشہ ممتاز کرتی رہی ہیں۔
سیالکوٹ کو اقبال و فیض کے مولد ہونے کا لا زوال فخر حاصل ہے۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً تیس لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے سر زمین سیالکوٹ صدیوں کی انسانی تہذیب و تمدن اور ادب و ثقافت کا عظیم الشان گہوارہ ہے ۔ اس دھرتی کے تاریخی آثار مدت سے مورخین و ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کا سامان بھی رہے ہیں ۔ یہاں کی تہذیب ٹیکسلا اور موہنجو ڈارو کی تہذیبوں کے ہم پلہ ہے۔
سیالکوٹ کی مٹی بڑی زرخیز اور مردم خیز ہے ۔سرزمین سیالکوٹ نے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے میدانوں میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس خطے کے باشندوں نے پاکستان کی صنعتی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ علم و فن کی خدمت بھی جاری رکھی ۔ ماضی میں ملا کمال کشمیری ، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی، امین حزیں سیالکوٹی ، اثر صہبائی، مرزا ریاض اور غلام الثقلین نقوی نے علمی وادبی حوالے سے سیالکوٹ کا نام روشن کیا۔ مولوی میر حسن ، مولوی ابراہیم میر، ڈاکٹر جمشید راٹھور اور یوسف سلیم چشتی نے علم کی پیاس بجھائی۔...