محمد شکیل پتافی
شفیق احمد
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
1995
Completed
303 ص
Biography
Urdu
Call No: 928.91439 م ح ب; Publisher: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676714700364
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | University of Management & Technology, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولاناحفیظ الرحمن واصف
گذشتہ مہینے (۱۳ مارچ) کواجڑنے اور باربار بسنے والی دلّی کی ایک اور فخر روزگار شخصیت مولانا حفیظ الرحمن واصف کی شکل میں اس دنیا سے اٹھ گئی اور دلّی کی بساط علم و دین اورادب وشعر پرچھایا ہوا اندھیرا کچھ اور گہرا ہوگیا، ان کی وفات پر محدود صحافتی اورعلمی حلقوں میں اضطراب اور ہلچل کی کمزورسی کیفیت نظر آئی جو مولانا حفیظ الرحمن واصف جیسی جلیل القدر شخصیت کے ماتم کے لیے نہ صرف ناکافی بلکہ کہناچاہیے کہ ان کی رفعت شان سے حددرجہ کم تر تھی۔ وہ ان ٹمٹماتی ہوئی شمعوں میں سے ایک شمع تھے جوآزادی سے پہلے اورآزادی کے بعد کی دہلی کی تمدنی تبدیلیوں اورلسانی اورسماجی تلاطم کی نوعیت اور کیفیتوں کی عکاس تھی اوروہ خود آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے درمیان نہ صرف حدِ فاصل کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ ان کاشمارسماجی انقلاب حال کے مشہور ماتم گساروں اور میرؔ،سوداؔ، غالبؔ ،حالیؔ اورداغؔ جیسے نوحہ خوانوں میں ہوتاتھا۔
وہ اس خانوادۂ علم وشریعت کے چشم وچراغ تھے، جس نے ۱۸۵۷ء میں اجڑنے والی دہلی کواز سر نوسجانے اور بہاروں سے آراستہ کرنے میں حصہ لیا تھااور ایک پورے تمدن کی تباہی کے بعد اس کے ملبہ سے نئی اوردلآویز عمارت تعمیر کرنے کی ہمت دکھائی تھی۔
وہ حضرت مولانا مفتی کفایت اﷲ کے فرزند دلبند اوران کی سیرت اور خصلت کے بے شمار پہلوؤں میں ان کے حقیقی وارث اور جانشین تھے۔انہوں نے آنکھ کھول کراپنے یگانہ روزگار والد کے علاوہ جن لوگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں، اور جن کی صحبتوں سے فیض اٹھایا تھاوہ سب وہ لوگ تھے کہ اب ان کا ثانی، دہلی کی سرزمین پرشاید ہی چشم فلک کوکبھی دیکھنا نصیب ہو۔
آج کی دہلی میں ان کاوجود بہاروں کی یادگار یاغالب کے الفاظ میں داغِ فراق صحبت شب کی...