رب نواز مونس
عبد الروف شیخ
Allama Iqbal Open University
Public
Islamabad
Pakistan
1992
Completed
293 ص
Other Literature
Urdu
Call No: 891.4391 ر ب ج; Publisher: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676714718624
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | Peshawar University, Peshawar, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of Sindh, Jamshoro, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | University of Peshawar, پشاور | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | Government College University, Lahore, Pakistan | |||
PhD | Government College University Lahore, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | OU, اوکاڑہ | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
ام المومنین حضرت ام سلمیٰ ؓ
ہند بنت ابی امیہ سہیل بن المغیر ہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے شوہر نے ہجرت مدینہ کی ، تو ہند ان کے ( شوہر ابو سلمہٰ) ہمراہ نہ تھے ۔
کیونکہ ام سلمہؓ کے میکہ والے مزاحم ہوئے اور انہوں نے اسے روک لیا ،ام سلمہ ؓ اپنے گھر واپس آئیں تو ان کے شوہر ابو سلمہ ؓ کے گھر والوں نے اس سے بچہ چھین لیا ، جس کا نام سلمہ تھا ۔وہ اپنے بچہ سے بچھڑ گئیں ۔ وہ روزانہ گھر سے نکل پڑتی اور ابطع میں بیٹھ کر رویا کرتی تھی ۔ سات آٹھ دن بعد ابطع سے ان کے خاندان کا ایک شخص نکلا ۔ اس نے ام سلمہ کوروتے دیکھا تو اس کا دل جذبہ ترحم سے بھر آیا ۔ گھر آکر لوگوں کو جمع کر کے کہا کہ اس پر ظلم کیوں کرتے ہو ؟ اسے جانے دو : اور ساتھ ہی اسے بچہ دے دو ۔ لوگوں نے بات مان لی اور بچہ ام سلمہ ؓ کے سپرد کر دیا اور مدینہ جانے کی بھی اجازت دے دی ۔ وہ تنہا سفر کر رہی تھی ۔ تنعیم کے مقام پر کلید بردار کعبہ عثمان بن طلحہ جو ابھی مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے ، انہوں نے سیدہ سلمہ ؓ سے پوچھا ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا ۔مدینہ ۔ انہوں نے پوچھا : کوئی ساتھ ہے ؟ آپ نے فرمایا ’’ خدا اور یہ بچہ ‘‘ ۔انہوں نے اونٹ پر سوار کر لیا اور خود مہار پکڑ لی ۔ جب قباء کی آبادی پر نظر پڑی تو عثمان نے کہا ’’ اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جائو، وہ یہیں قیام پذیر ہیں ‘‘ ۔ سیدہ سلمہ ؓ قباء کو اور عثمان مکہ کو روانہ...