عظمیٰ اکبر
Liaqat Ali
Department of Urdu & Iqbaliat
Mphil
The Islamia University of Bahawalpur
Public
Bahawalpur
Punjab
Pakistan
2009
Urdu Literature
Urdu
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676714850233
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
- | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
- | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
خواجہ حسن نظامی دہلوی
افسوس ہے گزشتہ ماہ میں خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے کم وبیش ۷۷ سال کی عمر میں چند روزہ علالت کے بعد اپنے وطن دہلی میں ہی وفات پائی۔ مرحوم عجیب وغریب شخصیت کے مالک تھے۔ دیکھنے میں کمزور ولاغر اورضعیف ومنحنی انسان تھے لیکن ارادہ وعمل کی قوت بے پناہ رکھتے تھے۔ان کی تعلیم قدیم مسلمان خاندانوں کی روایات کے مطابق ہوئی۔لیکن جس کو اعلیٰ معیار کہاجاتا ہے اس حدتک نہ تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی نہایت ہی معمولی حالت سے شروع کی، یعنی ایک مزدور کی طرح سرپرکتابوں کابوجھ لادکر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانااوراس طرح اپنی معاش پیداکرنا ان کی معاشی زندگی کاسب سے پہلا قدم تھا۔ لیکن اپنی محنت، استقلال، جذبۂ عمل اورذہانت کی وجہ سے وہ اس ادنیٰ ترین حالت سے ترقی کرکے ایک ایسے بلند مقام پر پہنچ گئے جہاں ہرمذہب و ملّت کے لاکھوں انسان ان کی عزت کرتے تھے۔ بڑے بڑے والیانِ ریاست ان سے ملنے میں فخر اورمسرت محسوس کرتے تھے۔حکومتیں ان کی بات کوگوش توجہ سے سنتی تھیں اوربہت سے لوگ جن میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اورپارسی، مرد و عورت، جوان و پیر سب ہی شامل تھے ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کے باعث ان کے ایک ایک فقرہ اور جملہ پرسردھنتے تھے۔ ۲۸ء یا ۲۹ء میں بزمانۂ قیام ڈابھیل ایک مرتبہ سورت شہرمیں ایک مسلمان بوہرہ کی دکان پرجانے کااتفاق ہواتو باتوں باتوں میں معلوم ہواکہ وہ اوراس کاپورا گھرانہ خواجہ صاحب سے بیعت ہے اور اگرچہ یہ گھرانہ اردو پڑھنے کی استعداد نہیں رکھتاتھا تاہم اس کامعمول یہ تھاکہ خواجہ صاحب کے ہاں سے ’’درویش‘‘ نام کا جورسالہ نکلتا تھا، سال کے اختتام پراس کی جلد بندھتی تھی اور ایک مطلا جزدان میں وہ محفوظ رکھ دیا جاتا تھا۔عید بقرعید کے دن نماز عیدکے بعد...