پروفیسرمحمد سرور جامعی
۲۰/ستمبر۱۹۸۳ء کومولانا عبیداﷲ سندھیؒ کے سوانح نگار اوراُن کے فکر کے شارح پروفیسر محمد سرور جامعی ابوظہبی میں جہاں وہ اپنے بیٹے سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ ۷۹ سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کی میت تدفین کے لیے لاہور گئی۔نماز جنازہ ڈاکٹر اسراراحمد نے پڑھائی اورانھیں لاہور کی ایک نئی بستی ٹاؤن شپ کے قبرستان میں سپرد خاک کیاگیا۔
سرور صاحب نے’’مولانا عبیداﷲ سندھیؒ حالات، تعلیمات اورسیاسی افکار‘‘ اور’’افادات وملفوظات حضرت مولانا عبیداﷲ سندھیؒ‘‘کے عنوانات سے دو بلندپایہ کتابیں اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔
مرحوم بڑے بلندپایہ صحافی تھے۔ وہ مختلف اوقات میں روزنامہ وفاق، المعارف اورماہنامہ زکوٰۃ کے مدیر رہے ہیں۔ان کی زبان میں قدرے لکنت تھی اس لیے تقریر کی بجائے تحریر پرزیادہ توجہ دیتے رہے۔
مرحوم تقسیم ملک سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں استادتھے۔وہاں انھیں ڈاکٹر ذاکر حسین خاں،ڈاکٹر عابد حسین اورپروفیسر محمد مجیب کے ساتھ سالہا سال تک کام کرنے کاموقع ملا۔ مرحوم ان کے بڑے مداح اور ان کے سیاسی نظریات سے بڑے متاثر تھے۔
’’افادات وملفوظات مولانا سندھی‘‘ کے بارے میں علمی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس میں مولانا سندھی کے نظریات کم اورسرور صاحب کے زیادہ ہیں۔واﷲ اعلم بالصواب۔سرور صاحب بڑے محنتی اورمخلص انسان تھے۔اﷲ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی مغفرت فرمائے۔
[مارچ۱۹۸۴ء]
Allah (SWT) dignified human beings among all the creatures and made these (creatures) all subjugated to men. Allah says in the Holy Qur’ān: (He is such a Lord who has created all the things in the universe for you). The beginning of human generation is traced back to the miraculous birth of Adam (A.S), and Allah entrusted their survival in their physical bodies in the process of fusing the male and female gametes in the womb of mother. And new offspring are born undergoing many developmental stages. The Holy Qur’ān has mentioned all the stages of the human being like: its creation started from dust, then from seamen, then a clot, then from a flesh (Al- Qur’ān, 22: 5). The same are described by modern medical sciences. The medical sciences also describes it in details that how a “fetus” is created and the process which it passes through. This article discusses how the “Fetus” is described in Islamic Sources, modern medical sciences and what are the similarities between these two?
مقدمہ
دین فہمی کے لیے جہاں قرآن و حدیث کا علم کلیدی کردار اداء کرتا ہے وہیں حدیث فہمی میں درایت حدیث ایک بنیادی امر ہےاور درایت حدیث اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علم اسباب ورودِ حدیث،علم فقہ الحدیث ، علم مشکل الحدیث کے ساتھ ساتھ علم ناسخ و منسوخ الحدیث کا فہم حاصل نہ ہو،بلکہ حضرت ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
»مر علی علیٰ قاص فقال أتعرف الناسخ من المنسوخ؟ قال لا قال ھلکت و أھلکت«( )
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گزر ایک قصہ گو کے پاس سے ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تمہیں ناسخ و منسوخ کا علم ہے انہوں نے عرض کیا نہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو خود بھی ہلاک ہوا اور ہلاک کررہا ہے‘‘۔
یعنی کسی بھی فن کے ناسخ و منسوخ کے علم کے بنا اس فن میں جد وجہد کرنا ہلاکت کے مانند ہے۔ کیونکہ اگر وہ ناسخ و منسوخ کے علم سے عاری رہتے ہوئے منسوخ روایت کی ترویج کرتا رہے تو یہ اس کے لیے دارین میں محرومی کا باعث ہو گا۔
یہاں یہ اشکال دور کرنا بھی ضروری ہےکہ نسخ اور نظر ثانی ہم معنیٰ نہیں بلکہ اس میں واضح فرق موجود جیسے نسخ میں ایک حکم کو دوسرے حکم سے بدل دیا جاتا ہے مثال کے طور پر پہلے ایک چیز جائز تھی پھر ناجائز قرار پا جاتی ہے یا اس کے برعکس ہو تاہے، البتہ نظر ثانی یہ ہے کہ آدمی پہلے ایک کام کا ارادہ کرے پھر اس کو ترک کر دے مثال کے طور پہ ایک آدمی سوچے کہ فلاں شخص کی طرف جاؤں پھر سوچے کہ اس کے پاس نہ جانا بہتر ہے تو اپنے فعل سے رک جائے یہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی پیش آتا ہے اس فرق کی وضاحت یوں ہے کہ نسخ میں شارع کے علم میں یہ بات موجود ہے کہ جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کتنے عرصے پہ محیط ہو گا جبکہ نظر ثانی کرنے واے کو اس کا علم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پہلا کام بھی اٹل ہی ہوتا ہے ۔( )
ایک اور اشکال کی وضاحت کر دوں کہ نسخ کا وجود حضور نبی آخر الزمان ﷺ کی اختراع نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل والے سماوی ادیان میں اس کے وجود کے شواہد موجود ہیں جیسا کہ خالق کائنات اللہ رب العزت نے لاریب کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
﴿فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَ بِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ کَثِیرًا ﴾ ( )
’’تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ اُن کے لئے حلال تھیں ، اُن پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا۔‘‘
تو ثابت ہوا کہ نسخ یہودیوں کے ہاں بھی موجود تھا کہ حلال چیزوں کی حلت کو منسوخ کرنے کے لیے حکم حرمت نازل ہوا۔
حدیث کے ناسخ و منسوخ کا علم مشکل ترین مہم ہے۔ زہری کہتے ہیں، ’’حدیث کے ناسخ و منسوخ کا علم حاصل کرنے کی کوشش نے اہل علم کو تھکا دیا ہے۔‘‘اس علم کے سب سے مشہور ماہر امام شافعی ہیں۔ وہ اس کام میں ید طولی رکھتے تھے اور دوسروں کی نسبت اس میدان میں بہت آگے تھے۔ امام شافعی جب مصر چلے گئے تو امام احمد بن حنبل نے ابن وارہ سے کہا، ’’کیا آپ نے شافعی کی کتب لکھ رکھی ہیں؟‘‘انہوں نے کہا،’’جی نہیں۔‘‘ امام احمد کہنے لگے، ’’یہ تو آپ نے بڑی غلطی کی۔ ہم میں سے کوئی مجمل و مفسر اور حدیث کے ناسخ و منسوخ کا علم نہیں رکھتا تھا۔ جب ہم امام شافعی کے ساتھ بیٹھنے لگے تو ہمیں یہ چیزیں معلوم ہوئیں۔‘‘( )
اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر علامہ حازمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب الاعتبا ر میں لکھتے ہیں کہ
’’ثم ھذا الفن من تتمات الاجتہاد ، اذا الرکن الاعظم فی باب الاجتہاد معرفۃ النقل و من فوائد معرفت النقل الناسخ والمنسوخ ‘‘ ( )
’’یہ اجتہاد کا بھی تتمہ ہے کہ اجتہاد کے باب کا اہم رکن دلائل نقلیہ کی معرفت ہے اور دلائل نقلیہ کی پہچان ناسخ و منسوخ کے علم کے بغیرنامکمل ہے۔‘‘
اتنا اہم اور دقیق موضوع اس پر اردو زبان میں اتنا کام موجود ہی نہیں تھاجو قارئین و محققین کے لیے کافی و وافی ہو تو راقم نے اس موضوع پر ایم فل کی سطح کا مقالہ لکھ کر آئندہ آنے والے محققین کے لیے ایک راستہ اور میدان مہیا کیا ہے البتہ اس موضوع کا ایک اہم پہلو تاحال تشنہ ہے جو کہ دوران تحقیق واضح ہوا اور وہ ہے اصولیین کی ابحاث ،میرا عنوان چونکہ علم حدیث کی حدود میں تھا جس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، آخر میں بارگاہ لم یزل میں دعا گو ہوں کہ وہ اس کو قبول فرما کر میرے لیے ذریعہ نجات بنائے۔
مقالہ نگار
محمد حسنین رضا