Zeeshan Hashim
Virtual University of Pakistan
Public
Lahore
Punjab
Pakistan
2017
Completed
Software Engineering
English
http://vspace.vu.edu.pk/detail.aspx?id=142
2021-02-17 19:49:13
2024-03-24 20:25:49
1676720977035
حدود کےنفاذ کی شرائط
حدود کی تنفیذ کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:
1۔ حدود کا اجراء ہر کسی کے لیے جائز نہیں بلکہ یہ حق صرف اسلامی حکومت کو حاصل ہے اور حکومت بھی اس وقت یہ سزا دے گی جب معاملہ کی پوری تحقیق ہو جائے اور ثبوت ، اقرار یا قرائن سے جرم ثابت ہو جائے اور کوئی شبہ باقی نہ رہے کیونکہ حد حق اللہ ہے اور شبہ سے حد ساقط ہوجاتی ہے۔ اسلامی قانون میں جائز نہیں کہ جرم ثابت ہو جانے کے بعد سزا میں کوتاہی کی جائے بلکہ ایسا کرنا جرم ہے۔ حد ودکا نفاذ اسلامی حکومت کے قیام سے ہو گااور امام کے ذمہ ہے ، جیسا کہ امام سرخسی ؒ نے لکھا ہے
"استيفاء الحد إلى الإمام"38 "حد کا استیفا ء امام کا کام ہے۔ "
حاکم وقت یا اس کا نمائندہ ہی حد کا نفاذ کر سکتا ہے ، جیسا کہ علامہ مرغینانی ؒ تحریر کرتے ہیں کہ
"حد قائم کرنے کے لیے ضروری ہے اس کو امیرالمومنین یا حاکم وقت یا حاکم کا نمائندہ قائم کرے۔ "39
2۔ آزاد ، عاقل ، بالغ اور مرضی سے فعل سر انجام دینے والے پر حد جاری ہوتی ہے۔ علامہ مرغینانی لکھتے ہیں جس پر حد لگائی جائے وہ "آزاد ، عاقل ، بالغ ہواور یہ فعل آزاد ی و مرضی سے ہوا ہو۔ "40
3۔ جس پر حد قائم کی جائے وہ سلیم البدن ہو۔ پاگل ، مجنون ، مریض، ناتواں، ضعیف اور نشہ کی حالت میں حد قائم نہ ہو گی۔ ہاں البتہ ان کمزوریوں کے دور ہونے پر حد قائم ہو گی۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تندرست پر ہی حد جاری کی جاتی، سوائے رجم کے ۔ حضرت عبد الرحمان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی...