Rahmatullah, Shaher Bano
PhD
Hamdard University
Karachi
Sindh
Pakistan
2000
Completed
Education
English
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/4171/1/2743H.pdf
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676724944572
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | Hamdard University, Karachi, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | Riphah International University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | , Lahore, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
شاعری میں استعارہ کی بہت اہمیت ہے ۔استعارہ کو شعر کی جان تصور کیا جاتا ہے۔ استعارہ کو شاعر اپنے تخیل سے جنم دیتا ہے۔ شاعراپنی پر چھائیوں کو جسم اور محسوسات کو زبان دے کر تخیل کی مدد سے استعارہ کو جنم دیتا ہے۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ یعنی وہ چیز جس سے تشبیہ دی جائے اور وہ بھی جس کو تشبیہ دی جائے دونوں موجود ہوتی ہیں۔ استعارے میں ان دونوں میں سے صرف ایک چیز موجود ہوتی ہے اس لیے تشبیہ میں صراحت و وضاحت ہوتی ہے ہے اور استعارے میں رمز و ابہام۔ نثر کو وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہاں تشبیہ زیادہ موثر رہتی ہے۔
شاعری میں ابہام سے حسن پیدا ہوتا ہے اس لیے استعارہ شاعری کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اقبال ایک پیام بر شاعر تھے۔ ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ شاعری میں پیچیدگی اور ابہام سے لوگوں کو الجھائیں ۔ اقبال کے استعارے آسان اور توضیحی ہیں۔ اقبال نے اپنے استعاروں سے اپنی شاعری کو سمجھانے کا کام کم اور تخلیقی معانی کا کام زیادہ لیا ہے۔ پروفیسر عبد الحق نے کہا ہے کہ صنائع بدائع کا بڑا ذخیرہ کلام اقبال میں موجود ہے۔ تشبیہات کی ندرت اور ان کی ارزانی پر حیرت ہوتی ہے ۔ مزید کہتے ہیں:
”استعاروں کی پوری دنیا آباد ہے“(17)
کلیات اقبال کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح بھی ہوتی ہے کہ نہ صرف استعاروں کی پوری دنیا آباد ہے بلکہ اقبال کا بنیادی شعری اسلوب بھی استعاراتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں استعارہ جس کثرت سے استعمال ہوا ہے، اس لحاظ سے نہ تو تشبیہ کا استعمال ہوا ہے اور نہ ہی علامت کا ۔ ان استعاروں میں قاری کی دلچسپی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اپنےاندر ابدی نظر افروزی کی...