Khaliq, Fazli
PhD
Abdul Wali Khan University
Mardan
KPK
Pakistan
2020
Completed
Education
English
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/13300/1/Fazli%20Khaliq%20education%202020%20awk%20mardan%20prr.pdf
2021-02-17 19:49:13
2024-03-24 20:25:49
1676725069023
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | Abdul Wali Khan University, Mardan, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
PhD | University of Education, Lahore, Pakistan | |||
PhD | The University of Lahore, Lahore, Pakistan | |||
PhD | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MS | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
پروفیسر خورشید الاسلام
پروفیسر خورشید الاسلام ۱۸؍ جون کو علی گڑھ کی خاک کا پیوند ہوگئے، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وہ جولائی ۱۹۱۹ء میں مراد آباد اور بجنور کی سرحد پر واقع ایک گاؤں امری میں پیدا ہوئے، یہ اور مشہور شاعر اختر الایمان گہرے دوست تھے اور فتح پوری ہائی اسکول میں ساتھ ہی پڑھتے تھے اور دونوں اسکول کے مشہور ڈبیٹر اور بہترین مقرر تھے، بی اے کرنے کے بعد خورشید الاسلام صاحب کچھ عرصے رسالہ ’’آج کل‘‘ کے سب اڈیٹر رہے اور ۱۹۴۳ء میں ایم اے کرنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آئے، یہاں پھر اختر الایمان کا ساتھ ہوا اور دونوں ۱۹۴۴ء میں یونیورسٹی کی نمائندگی کے لیے حیدر آباد گئے اور ہفت روزہ اردو کانگریس میں شریک ہوئے، خورشید الاسلام صاحب ۱۹۴۵ء میں ایم اے کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لکچرر ہوگئے اور ۱۹۷۳ء میں پروفیسر ہوئے،اور جب پروفیسر آل احمد سرور سبکدوش ہوئے تو یہ صدر شعبہ ہوئے۔
مضمون نگاری شروع کی تو مولانا شبلی پر ہاتھ صاف کیا، مولانا پر ان کا یہ مضمون ان کی کتاب ’’تنقیدیں‘‘ میں شامل ہے، اس کا آغاز اس طرح کیا ہے ’’شبلی پہلے یونانی تھے جو مسلمانوں میں پیدا ہوئے‘‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مضمون ان کی علمی شہرت کا باعث بنا اور مولانا ابوالکام آزاد نے اس کو بہت پسند کیا، ان کی سفارش پر خورشید صاحب کو لندن یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی مگر راقم نے سنا ہے کہ مولانا نے ان کے نام ہی کو غلط قرار دیا کہ اس میں مضاف و مضاف الیہ دولسانی ہیں۔
بہرحال وہ لندن یونیورسٹی میں تدریسی خدمت پر مامور رہے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے شائع ہونے والی اردو انگریزی لغت کے اڈیٹر بھی مقرر ہوئے، انہوں نے یونیسکو پروجیکٹ کے تحت ’’غالبؔ۔ حیات اور...