غازی, عمر فاروق
PhD
University of the Punjab
Lahore
Punjab
Pakistan
1997
Completed
Urdu Language & Literature
Urdu
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/8871/1/5890H.PDF
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676725205942
المدد
(ارادھنا)
زندگی بھی، موت بھی تو دیتا ہے
موسموں کے راستے سنوار کر۔۔۔!
ابابیلوں ، بلبلوں اور کبوتروں کو بھیجتا ہے
اے عشق۔۔۔!
پتھروں کو موم کرتے ہوئے بیاباں کو لالہ زار کرنے والے
میں تجھے سبز پتوں پر خط لکھ کر۔۔۔!
لذتِ حقیقت میں ڈوبے چشموں کا۔۔۔،
طواف کرنے والی ہوائوں کے سپرد کروں
تیرے زائروں کی ۔۔۔!
صبح و شام خانقاہی دیواروں کو چومتا پھروں
تو تاثیرِ وصل کی انتہا۔۔۔
تو جوازِ ہجر کا مدعا
خواب کو جھنجھوڑتی ۔۔۔تعبیر کی رگوں میں دوڑتی وفا
اے شافی۔۔۔!
تو ہی بیمار کرتا ہے۔۔۔ تو ہی شفا دیتا ہے
اے خالقِ ارض و سما۔۔۔ اے طبیب ِ کون و مکاں۔۔!
میرا وسیلہ ہے خیر الوریٰ۔۔۔ المد دالمدد۔۔!
یا محصی ، یا محیطُ۔۔۔ المد دالمدد
میں بہلول کی باتیں اطمینان سے سنتا رہا کیونکہ اس کی باتوں میں کہیں کہیں نثری نظم کا اسلوب خوب صورت انداز میں نظر آیا تھا۔ وہ سامنے والے شخص کی فکر آلود سوچ کو معنویت کے ساتھ ، شفق کی تعلق داری میںلے آنے کا ماہر نظر آتا تھا۔ اسی لیے میں نے اپنے قیام کوطویل کرنے کا سوچا ۔ شاید وہ میری سوچ کو پڑھ چکا تھا۔ اسی لیے وہ میرے بولنے سے پہلے بول پڑا۔
اُس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔خوشبو قید نہیں ہو سکتی۔ شاخیں ہوں گی تو پھول کھل سکے گا۔ بصورتِ دیگر صرف اک بیج ہے جس میں ساری دنیا قید ہے۔ اگر بیج کو سازگار موسم ، زمین ، روشنی اور پانی ملے گا تب ہی وہ روشنی، ہوا کے ساتھ پرندوں کو اپنی طرف بلانے کے قابل ہو گا۔ اسی لیے میں ایک جگہ رہ نہیں سکتا۔ آج ہوائوں کے ساتھ سورج سے باتیں کر رہا ہوں۔۔۔کل نہ جانے کہاں۔۔۔ستاروں کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہوئے، کس حالت میں پڑا...