Search or add a thesis

Advanced Search (Beta)
Home > Criminal Procedure Code Ka Shari Asolon Ki Roshni Main Tahkiki Motaliya.

Criminal Procedure Code Ka Shari Asolon Ki Roshni Main Tahkiki Motaliya.

Thesis Info

Access Option

External Link

Author

Sultan. Ahmad

Program

PhD

Institute

The Islamia University of Bahawalpur

City

Bahawalpur

Province

Punjab

Country

Pakistan

Thesis Completing Year

2008

Thesis Completion Status

Completed

Subject

Islamic studies

Language

English

Link

http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/9415/1/Sultan%20Ahmad-IUB.docx

Added

2021-02-17 19:49:13

Modified

2024-03-24 20:25:49

ARI ID

1676725296196

Similar


پروسیجرل لاء کا تعارف قانون کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم قانونِ اصلی ہے جسے Substantive Law کہتے ہیں، دوسری قسم جسے قانونِ ضابطہ یعنی Procedural Law کہتے ہیں۔ قانونِ اصلی وہ ہے جو حقوق وفرائض کو طے کرتا ہے۔ دوسرا شعبہ وہ ہے جو ان حقوق وفرائض کے مطابق عملدرآمد کے راستے یا طریقے کو تجویز کرتا ہے۔ اسے Procedural Law کہا جاتا ہے۔ پروسیجرل کوڈ کا تعارف، ضرورت واہمیت قانونِ اصلی پر عملدرآمد کے ضوابط کو جب مدون کیا گیا تو اس مجموعے کو پروسیجر کوڈ (قانونِ ضابطہ) کا نام دیا گیا۔ قانونِ اصلی کو اس کی روح کے مطابق اطلاق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے اس کی روح کے مطابق ہی طریق کار بھی وضع کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ قانون پر عملدرآمد سے حقوق والوںکو اپنے حقوق مل سکیں یا پھر خلاف ورزی کرنے والوں کو سزاوار ٹھہرایا جا سکے۔ Substantive Law یا قانونِ اصل کے لئے جب تک ان کی روح کے مطابق طریقۂ کار اختیار نہ کیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ پروسیجر کا قانون کی روح کے عین مطابق ہونا نہایت ضروری ہے۔ قانون کتنا ہی مکمل اور عمدہ کیوں نہ ہو، مگر اس سے براہِ راست فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جب تک اس پر عمل کرنے کیلئے ایک خاص عدالتی طریق کار (Procedure) اختیار نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے سے نتیجہ کے طور پر قانون کے سارے تقاضے (مثلاً تیز رفتاری سے اور بروقت مظلوم کی داد رسی، ظالم کو سزا اور لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی وغیرہ) پورے ہو سکیں گے اور قانون پر عمل کا یہ طریق کار عدالتوں کے ذریعے اختیار کیا جاتا ہے اسی طریقِ کار (ضابطے) کے تحت عدالت مختلف مقدمات سنتی ہے اور پھر انصاف مہیا کرتی ہے۔ اس طریقِ کار کے قواعد وضوابط جتنے جامع اور مؤثر ہوں گے، عدالتی نظام بھی اتنا ہی جاندار اور مستحکم ہوگا اور اگر یہ طریقِ کار ناقص ہوگا تو عدالتی نظام بھی غیر فعال اور سست ہوگا، جس کے نتیجے میں انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوں گی اور افراد معاشرہ انصاف سے محروم رہیں گے۔ لہٰذا اس طریقِ کار کو مؤثر اور جاندار ہونا چاہئے تاکہ انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ قانون اپنی جگہ اہم سہی مگر اس سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے کیلئے عدالتی طریقِ کار اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ عموماً نقص قانون میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے طریقِ کار میں ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کے نقائص دور کر دیئے جائیں تو قانون سے صحیح طور پر استفادہ ممکن ہو سکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بھی بحث وتمحیص ہوئی۔ نیز علماء کرام پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تاکہ وہ اپنی سفارشات مرتب کرے۔ دانشوروں، صحافیوں، ریٹائرڈ ججوں اور پولیس افسروں نے بھی اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ جن سے یہ بات واضح ہوئی کہ حدود کے نفاذ کے عمل کو جس عدالتی نظام کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے وہ بجائے خود محلِ نظر ہے اور نیچے سے اوپر تک اس کی ہر سطح پر مشکلات اور شکایات عملی طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق آرڈیننس کی بعض شقوں سے ہو سکتا ہے لیکن ان میں سے بیشتر شکایات اور مشکلات کا تعلق موجودہ عدالتی سسٹم اور اس کے پیچ در پیچ نظام سے ہے اور یہ شکایات صرف حدود کے حوالے سے نہیں بلکہ ملک کا ہر قانون اس عدالتی سسٹم کی پیچیدگی اور تہ در تہ الجھنوں سے متاثر ہے۔ فوجداری مقدمات میں اسلامی عدالتی طریق کار کو جزوی طور پر اپنا کر افغانستان اور سعودی عرب کسی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں سعودی عرب کے قیام سے قبل حجازِ مقدس میں چوری، قتل، ڈاکہ اور دوسرے جرائم عام تھے لیکن جب شاہ عبدالعزیز نے شرعی قوانین نافذ کئے اور ان پر عمل درآمد کا ایک مؤثر نظام جو اگرچہ آئیڈیل نہیں قائم کیا تو وہاں جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی اور سعودی عرب ایک روشن مثال بن گیا، اسی طرح افغانستان میں قبائلی جنگوں کا خاتمہ اور پوست کی کاشتکاری پر کنٹرول کیا گیا، جسے دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ اگر یہ قوانین سعودی عرب اور افغانستان میں کامیاب ہوئے ہیں تو پاکستان میں ان کے غیر مؤثر ہونے کی وجہ تلاش کرنی پڑے گی کیونکہ ایک بیج اگر ایک زمین میں پھل دیتا ہے، دوسری زمین میں بھی پھل دیتا ہے لیکن تیسری زمین میں پھل نہیں دیتا تو قصور بیج کا نہیں بلکہ یا تو زمین ناقص ہے یا بیج ڈال کر اس میں پانی، کھاد وغیرہ میں کمی ہوئی ہے۔ اسلامی قانون تو شیخ سعدی کے اس قول کا مصداق ہے۔ فرماتے ہیں: باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شور بوم و خس ’’بارش کی طبعی لطافت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں جب وہ باغیچے پر برستی ہے تو وہاں گل لالہ اُگتے ہیں اور جب شور والی زمین پر برستی ہے تو وہاں کانٹے اُگتے ہیں‘‘۔ موضوعِ تحقیق کا بنیاد ی سوال اس پس منظر میں ہمارے موضوعِ تحقیق کا بنیادی سوال یہ تھا کہ پاکستان میں جتنے بھی قوانین چاہے دیوانی ہوں یا فوجداری۔ ان تمام کے عملی نفاذ کیلئے ان ماہرین کی ضرورت ہے جو ان کے عملی نفاذ کا صحیح طریقِ کار (Procedure) بھی جانتے ہوں اور ان میں جہاں جہاں اسلامی روح ڈالنے کی ضرورت ہو وہ بھی اِن میں ڈال سکتے ہوں۔ اسلامی قوانین ہمارے ہاں بھی بنے، ان کے نفاذ کا اعلان بھی ہوا، مگر نہ تو یہ قوانین صحیح طور پر نافذ ہو سکے، نہ ہی ان سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکے کیونکہ ہم نے قوانین تو اسلام کے نافذ کئے مگر عدالتی سسٹم وہی پرانا برطانوی نوآبادیاتی دور کا باقی رکھا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ حدود لاز کو ہی لیجئے۔ حدود لاز کا قانون اصلی (Substantive Law) تو وہی ہے لیکن ان کیلئے ضابطہ (Procedure) انگریزی قانون والا اختیار کیا گیا اور یہ زحمت گوارا ہی نہ کی گئی کہ پرانے نظام کے ناقص ہونے کا اثر حدود لاز پر کتنا پڑے گا۔ نتیجتاً لوگ اسلامی قوانین سے بیزار دکھائی دینے لگے۔ انگریزی پروسیجر کی وجہ سے پہلے ہی مرحلے میں پولیس لوگوں سے پوچھتی ہے کہ حدود لاز کے تحت مقدمہ درج کیا جائے یا کہ عام قوانین کے تحت؟ اور یہی وہ بنیادی صورت ہے جہاں سے پروسیجر کے غلط ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ مقالے کے آغاز میں راقم کافریضۂ تحقیق یہ تھا کہ مروجہ ضابطۂ فوجداری اسلامی قانون کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے یا نہیں؟ اور موجودہ ضابطۂ فوجداری اور اسلامی ضابطہ فوجداری کے بنیادی تصورات میں فرق ہے یا افراد کار اور طریق کار کا فرق ہے؟ بحث کے دوران یہ نتیجہ نکلا ہے کہ مروجہ ضابطہ فوجداری اسلامی ضابطۂ فوجداری سے نہ تو مکمل مطابقت رکھتا ہے نہ ہی کلیتہً خلاف ہے بلکہ چند دفعات پر توجہ دی جائے تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق بنایا جا سکتا ہے اور مروجہ ضابطۂ فوجداری اور اسلامی ضابطۂ فوجداری کے بنیادی تصورات میں فرق برائے نام ہے۔ اصل فرق طریق کار اور افرادکار میں ہے۔لہٰذا طریق کار اور افرادِ کار میں تبدیلی کرکے موجودہ ضابطے کی موجودگی میں اسلامی قوانین سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ موضوع کی ضرورت واہمیت موضوع کی ہمہ گیریت اور اہمیت اس قدر ہے کہ اگر صحیح معنوں میں تحقیق ہو تو اس پر کام کرنے سے نہ صرف مسلمانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ غیر مسلم بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے کیونکہ اسلام صرف مسلمانوں کا دین نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔ موجودہ دور میں موضوع کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ آج کل ہمارے ہاں مقدمات کا بوجھ بہت زیادہ ہے، عدالتی پروسیجر میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں، جن کی وجہ سے انصاف کا حصول نہایت مشکل ہے، عوام پریشان مارے مارے پھرتے ہیں، زائد بوجھ اور لاتعداد مسائل سے عدالتوں کی استعدادِ کار پر منفی اثر پڑتا ہے، حکومت کا تنخواہوں اور مراعات میں، عوام کا وکیلوں کو بھاری فیسیں، منشیوں اور عدالتی اہلکاروں کو رشوت دینے میں بے شمار پیسہ ضائع ہوتا ہے، قیمتی وقت مسلسل پیشیوں اور عدالت کے چکروں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف عوام بلکہ عدالتی عملہ بھی پریشان ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی عدالتی طریقۂ کار کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تاکہ ججز، وکلاء، سکالرز اور دیگر متعلقہ افراد اس سے واقفیت حاصل کر سکیں اور جس سے استفادہ کا شوق ان میں پیدا ہو اور اس نظام کے عملی نفاذ کی راہ ہموار ہوسکے، یہ پروسیجر انسانوں کے دکھوں کا مداوا، مسائل کا حل اور وقت کی ضرورت ہے۔ جگہ جگہ مختصراً اس موضوع پر لکھا بھی گیا ہے لیکن کوئی اہم کام مقالہ نگار کی نظر سے نہیں گزرا۔ یہ تحقیقی کام یقینا اس سلسلے میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا کام ہے۔ جس سے اس کی ضرورت و اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اہدافِ تحقیق اس موضوع پر تحقیق کے سلسلے میں راقم نے درجِ ذیل اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے: (i قرآن وسنت کے علاوہ کتب تفسیر، کتب سیرت، کتب فقہ، کتب اصول فقہ، اسلامی عدالتی نظائر (Precedents)، کتب لغت، کتب تاریخ، کتب اسماء الرجال، مجلات و مضامین اور رپورٹس وغیرہ سے ایسے احوال و واقعات کو تلاش کیا گیا ہے جو اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔ (ii اس موضوع سے متعلق لکھی گئی کتب کا مطالعہ کرکے ان کے فراہم کردہ اصولوں کا جدید حالات کے تناظر میں ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے۔ (iii قرآن وسنت، تعامل صحابہؓ و اقوالِ فقہاءؒ کی روشنی میں ہمیں فوجداری مقدمات کا جو عدالتی طریقۂ کار ملا ہے۔ مروجہ ضابطۂ فوجداری سے تقابل کرکے اسے بیان کیا گیا ہے تاکہ واضح ہو سکے کہ صحیح اسلامی عدالتی طریقہ کار کیا ہے۔ مقاصدِ تحقیق اس موضوع پر تحقیق سے مندرجہ ذیل مقاصد پیش نظر ہیں: (1 مروجہ عدالتی نظام کی اصلاح۔ (2 حقوق کو زندہ کرنا، لوگوں کو حقوق دلانے اور حقوق وانصاف کو ان کی دہلیز تک پہنچانا۔ (3 غلط پروسیجر سے اسلامی قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔ اب کونسا پروسیجر اختیار کیا جائے تاکہ اسلامی قوانین پر عمل ہو سکے اور ان سے صحیح استفادہ ممکن ہو سکے۔ (4 مروجہ حدود لاز کے غلط نفاذ سے عام لوگوں کے اذہان پر غلط اثر پڑا ہے، اس کی اصلاح رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد کے اثرات میںتلاش کرنا۔ جس میںفرمایا ہے: عن ابن عمرؓ ان رسول اﷲ ﷺ قال: اقامۃ حد من حدود اﷲ خیر من مطر اربعین لیلۃ فی بلاد اﷲ عزوجل ’’عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؓﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی حد کو قائم کرنا اللہ تعالیٰ کے شہروں میں چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے‘‘۔ (ابن ماجہ) مواد کی فراہمی موضوع پر تحقیق کے سلسلے میں تمام فقہی کتب کے ذخیرے کو پیش نظر رکھاگیا ہے، خاص طور پر ادب القاضی کے ابواب کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ متقدمین میں حنفی فقہاء کرام میں سے قاضی شریح کی آراء وفیصلے، قاضی ابویوسف، امام محمد، امام ابوبکر الخصاف، عمر بن عبدالعزیز ابن مازہ بخاری، امام وکیع، علی بن خلیل طرابلسی، محمد بن شحنہ، مالکی فقہاء میں سے شہاب الدین ادریس قرافی، ابراہیم بن علی بن فرحون، ابن رشد، شافعی فقہاء میں سے امام الحرمین، امام شیرازی، علی الماوردی، جلال الدین سیوطی، غزالی، حنبلی فقہاء میں سے ابن قدامہ، ابن تیمیہ، قاضی شوکانی اور ابن قیم جوزی کی تصانیف پیش نظر رہیں اور ان سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ فقہ اسلامی کی متد اول کتب وشروح سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ جدید کتب میں سے سر عبدالرحیم، ڈاکٹر حمید اللہ، مجاہد الاسلام قاسمی، صبحی محمصانی، ڈاکٹر وھبہ زحیلی، محمد متین ہاشمی، جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمن، استاد مصطفی زرقاء، عبدالقادر عودہ شہیدؒ، ڈاکٹر عبدالعزیز عامر، ڈاکٹر محمود احمدغازی ودیگر سکالرز کی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کی سنٹرل لائبریری، سیرت چیئر کی لائبریری، مرکزی لائبریری بہاولپور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی لائبریری، شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کی لائبریری، ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری اسلام آباد، اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کی لائبریری اور رپورٹس، جامعہ پنجاب کی مرکزی لائبریری، جناح پبلک لائبریری لاہور، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی لائبریری، شیخ زائد اسلامک سنٹر لاہور کی لائبریری سردار پور، جھنڈیر لائبریری میلسی اور دیگر لائبریریوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اسلوبِ تحقیق اس مقالے میں میرا اندازِ تحقیق بیانیہ ہے۔ جس کیلئے: (i موضوع کے متعلق مطبوعہ و غیر مطبوعہ مواد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ (ii دورِ جدید کی سہولیات (مثلاً انٹرنیٹ) اور آڈیو ویڈیو مواد سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ (iii اہل علم، ماہرین قانونِ اسلامی اور اینگلو سیکسن قانون کے ماہرین سے بذریعہ سوال و جواب بالمشافہ ملاقات یا بذریعہ خط وکتابت استفادہ کیا گیا ہے۔ مقالے کو میں نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب دفعہ نمبر 1 تا 100 پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب دفعہ نمبر 101 تا 200 پر محیط ہے۔ تیسرے باب میں دفعہ نمبر 201 تا 400 شامل ہیں کیونکہ دفعہ نمبر 206 تا 220 اور 266 تا 366 (85) دفعات حذف شدہ ہیں، لہٰذا یہ باب 115 دفعات پر مشتمل ہے۔ چوتھا باب دفعہ نمبر 401 تا 475 پر محیط ہے کیونکہ دفعہ نمبر 476 سے نیا باب نمبر 35 شروع ہوتا ہے اور ہر باب کے مضامین و عنوانات علیحدہ ہیں اور دفعات پر بحث بھی نیا پہلو اختیار کر لیتی ہے، لہٰذا یکسانیت مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے باب کو 75 دفعات تک مکمل کیا ہے۔ پانچواں اور آخری باب دفعہ نمبر 476 تا 565 پر محیط ہے۔ اس طرح ممکنہ حد تک ابواب کو متوازن رکھنے کی سعی کی ہے تاکہ مقالے کے حجم کا توازن و تناسب اور حسن برقرار رہے۔" xml:lang="en_US
Loading...
Loading...

Similar Books

Loading...

Similar Chapters

Loading...

Similar News

Loading...

Similar Articles

Loading...

Similar Article Headings

Loading...

پتھر

پتّھر

بیٹھا تھا مَیں کمرے اندر
غور سے میں نے جب دیکھا تھا
آگے ، پیچھے ، اوپر ، نیچے
پتّھر ، پتھر ، پتھر ، پتھر
چیزیں ساری پتھر کی تھیں
چھت دیواریں پتھر کی تھیں
کمرا سارا پتھر کا تھا

صحن میں نکلا میں نے دیکھا
گھر بھی سارا پتھر کا تھا
اک تنہائی گونج رہی تھی

جب میں گھر سے باہر نکلا
روڈ بھی سارا پتھر کا تھا
لوگ بھی سارے پتھر کے تھے
سوچ بھی ساری پتھر کی تھی
شہر ہی سارا پتھر کا تھا

رات ہوئی تو میں نے دیکھا
چاند فلک پر پتھر کا تھا
تارے سارے پتھر کے تھے
چیخ جو ماری پتھر گونجے

چیخ بھی ساری پتھر کی تھی
لوٹ کے آیا خود کو دیکھا
اور پھر میں بھی پتھر کا تھا

شیخ عبدالعزیز دباغ کی صوفیانہ فکر کے بر عظیم پر اثرا ت کا تحلیلی مطالعہ

Shaikh Abdul Aziz Dabbagh was a prominent Sufi scholar of the Shdhiliyah order. Owing to his moral excellence and righteousness, he endeavored to rejuvenate the Sufism according to the basic principles of Quran and Sunnah. This study aims at to explore the impacts of Shaikh Abdul Aziz Dabbagh’s ideology about Sufism in the territory of Sub-Continent. His philosophy about Sufism has some explicit and unique features which were different from other Sufis of his time. In his method, he gave special importance to abide by the rulings of Quran and Sunnah firmly rather than the prevailing Sufi traditions and asked his disciples to refrain from un-Islamic practices which were being accepted by other so-called Sufis. In this way, he exposed the genuine picture of Sufism before the world. Resultantly, his ideas were widely accepted in Scholars and masses too. In this study, his teachings about Sufism have been designated in detail and peculiarity from other Sufis has been focused.

Multimedia Watermarking Using Intelligent Techniques

Increase in research and commercial interest is observed in the area of digital watermarking in current era. Main reason behind this development is the extensive use of internet with high speed and bandwidth availability. As a result, sharing of multimedia content is increased significantly, which rises need for copyright protection and authentication. Digital watermarking provides vast commercial applications for securing content of different multimedia objects. However, watermarking can cause permanent loss in the content of the object. Different sensitive multimedia objects like medical, military, scientific etc. do not tolerate such permanent loss. Therefore, the distortion needs to be minimized or completely eliminated so that the true purpose of the multimedia content can be retained. Numerous watermarking techniques are available for different sensitive applications. Our objective is to propose reversible and secure techniques for watermarking different multimedia objects. Robust watermarking approaches are targeted in this research. Main focus is to achieve maximum watermarking capacity and to minimize embedding distortion, while preserving functional capability of the underlying multimedia object. Two different types of multimedia objects are targeted in our dissertation; these include relational databases and DNA medium. Genetic algorithm is selected in order to apply intelligent techniques for improving different properties of digital watermarking. Two relational database watermarking approaches are designed and developed; both approaches are reversible, robust, and follow the distortion tolerance of the attributes. First approach uses genetic algorithm to improve capacity, reduce distortion, and false positive rate of the difference expansion based watermarking technique. Whereas, second approach improves watermarking capacity, reduces distortion, and false positive rate of the reversible contrast mapping, which is first time designed for relational databases. A robust data hiding technique for DNA medium is proposed, which increases watermark capacity by improving current synonymous substitution technique and resists mutation losses. Moreover, synonymous substitution does not causes any disturbance in the amino acid sequence, thus the DNA functionality is retained. In order to tackle different DNA mutations binary strings and Reed Solomon Codes are applied. The watermark is encoded before embedding using Reed Solomon Codes and the structural information is retained using binary strings.