Hussain, Riaz
PhD
Government College University
Faisalabad
Punjab
Pakistan
2017-04
Completed
Natural Sciences
English
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/9241/1/Riaz%20Hussain%20Thesis.pdf
2021-02-17 19:49:13
2024-03-24 20:25:49
1676727248695
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | Government College University, Faisalabad, Pakistan | |||
PhD | Hazara University, Mansehra, Pakistan | |||
PhD | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, Multan, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Pakistan Institute of Engineering and Applied Sciences, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of Malakand, Malakand, Pakistan | |||
PhD | Hazara University, Mansehra, Pakistan | |||
PhD | Quaid-I-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Quaid-I-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Lahore, Pakistan | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
RPH | COMSATS University Islamabad, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
PhD | Hazara University, Mansehra, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
فینٹسی کولاژ
ضیغم رضا،پی ایچ ڈی اسکالر
جب مجھے اپنی اس صلاحیت کا ادراک ہوا کہ میں کسی بھی کتاب کے صفحے کو ایک نظردیکھ کر اس کے متن کو حفظ کرسکتا ہوں تو میں نے اپنا تمام تر وقت مطالعے میں صَرف کرنا شروع کردیا۔ جو صفحہ جہاں سے بھی ہاتھ لگا میں نے حفظ کرڈالا۔ اپنے جاننے والوں کی نجی لائبریریوں کو چند دنوں میں ختم کرکے میں نے شہر کا رُخ کیا۔ سرکاری و نجی لائبریریاں؛ جہاں تک بھی میری رسائی ہوئی؛ وہاں موجود کتابیں اب میرے حافظے میں بھی محفوظ ہوچکی تھیں۔ دنوں؛ ہفتوں اور مہینوں کی بے چینی کے بعد بالآخر وہ دن آگیا جب مجھ پہ انکشاف ہوا کہ اب پڑھنے کو کچھ نہیں بچا۔ میں نے تمام لائبریریوں میں موجود تمام تر کتابیں اپنے ذہن میں محفوظ کرلی تھیں۔
اُس رات میں اطمینان سے سویا کہ مزید پڑھنے کی تڑپ اب بالکل ختم ہوچکی تھی۔ رات کے کسی لمحے مَیں بیدار ہوا تو مجھے پانی کی پیاس محسوس ہوئی۔ ہونٹوں پہ زُبان پھیرتا میں اپنی چارپائی سے اُترنے ہی لگا تھا کہ مجھے یاد آیا؛ تاریخ میں ایک سے زائد اشخاص کو چارپائی سے اُترتے ہوئے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو وہیں روکا اور دائیں طرف سے اُترنے کی بجائے بائیں طرف سے زمین پہ پاؤں رکھنا چاہے۔ اس سےپہلے کہ میرے پاؤں زمین پہ ٹِکتے مجھے یاد آیا کہ ایک شخص نے چارپائی کے بائیں طرف سے زمین پہ پیر اُتارے تھے مگر پاؤں ٹِکنے سے پہلے ہی وہ اوندھے منہ گرا اورموت کے منہ میں چلاگیا تھا۔۔ میں نے اپنے پاؤں سمیٹے اور اپنی چارپائی کا ہر حصہ آزمایا کہ شاید میں زمین پہ پاؤں رکھ سکوں مگر بے سود۔۔۔ میری یادداشت...