Shaheen, Nazia
PhD
Quaid-I-Azam University
Islamabad
Islamabad.
Pakistan
2007
Completed
Chemistry
English
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/5132/1/2195.pdf
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676727300301
جگر مرادآبادی
حضرت جگر مراد آبادی کاحادثۂ وفات جو ۹ستمبر کی صبح کوگونڈہ میں ستربرس کی عمر میں پیش آیا،اردو شعر وسخن کی دنیا کے لیے اس درجہ المناک ہے کہ اس کی تلخی و شدت عرصہ تک محسوس ہوتی رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ اُن کا ماتم ہندووپاک میں جیسا ہمہ گیر ہواہے، اقبالؔ مرحوم کے بعد سے آج تک کسی شاعر کاایسا نہیں ہواتھا۔ اردو شاعری کے دور جدیدنے تغزل کے پانچ عظیم المرتبت مجدد پیدا کیے ہیں: اصغرؔ،حسرتؔ،جگرؔ،فانیؔ اورفراق۔ؔانھوں نے اردو غزل کونیا آہنگ، نیا اسلوب دیا اوراُن تصورات سے اسے پاک وصاف کیاجواب تک روایتی ورثہ کی حیثیت سے چلے آرہے تھے۔اس فہرست میں جگرؔ کانمبر اگرچہ فکر وفن کے اعتبار سے اصغرؔوحسرتؔ کے بعد آتاہے لیکن ہردلعزیزی اورعام مقبولیت میں وہ سب سے بلند اورفائق تھے۔ہرشاعر کاکلام تدریجی ارتقا کی منزلوں سے گزر کرپختگی و پائیداری کے مرتبہ تک پہنچتا ہے جہاں اس کو انفرادیت حاصل ہوتی ہے لیکن بڑے شاعروں کے کلام میں تدیجی ارتقا کی مختلف کڑیوں کامعلوم کرلینا اس قدر آسان نہیں ہوتا جتنا کہ مرحوم کے کلام میں ہے۔المجاز قنطرۃ الحقیقہ کا مقولہ اگر صحیح ہے توحضرت جگرؔ کاکلام اس کی سب سے بڑی روشن دلیل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کوشہرت ومقبولیت پہلے عوام میں حاصل ہوئی، پھر طبقۂ خواص میں اُن کے فکر وفن کی عظمت وگیرائی کااعتراف پیداہوا۔اُن کے ابتدائی دور شاعری میں حسن وعشق ِمجازی کے طبعی معاملات اوراُن کے رازونیاز کی حقیقی تصویریں پوری آب وتاب اورعریاں شکل وانداز میں پائی جاتی ہیں،اس لیے ان تصویروں نے حسین ودلکش ترنم کے ساتھ مل کر عوام میں اورخصوصاً نوجوانوں میں ایک قیامت برپاکردی اورہرشخص جگر کے اشعار کا مانا ہوانظر آنے لگا۔لیکن وقت کے امتداد اور شعور وتجربہ کی مختلف آزمائشوں سے گزرنے کے ساتھ مرحوم کے فکر میں حسن کا تصور، مقید سے...