Muhammad Abbas
PhD
Quaid-I-Azam University
Islamabad
Islamabad.
Pakistan
2016
Completed
Microbiology
English
http://prr.hec.gov.pk/jspui/bitstream/123456789/9676/1/M.%20Abbass%20_QAu.pdf
2021-02-17 19:49:13
2024-03-24 20:25:49
1676727535690
مسز سروجنی نیڈو
افسوس ہے کہ ہماری قومی عمارت کا ایک اور ستون گرگیا اور ۲؍ مارچ کو مسز سروجنی نیڈو ہم سے رخصت ہوگئیں وہ عورت تھیں مگر اپنے اوصاف اور خصوصیات میں بہتیرے مردوں سے بڑھ کر تھیں، وہ انگریزی زبان کی نازک خیال شاعرہ، سحرطراز خطیبہ، سیاسیات کی ماہر، جنگ آزادی کی سرفروش سپاہی اور ہندومسلم اتحاد کا عملی نمونہ تھیں، انھوں نے آزادی کی جنگ میں مردوں کے دوش بدوش قیدوبند کی مصیبتیں جھیلیں، وہ فرقہ ورانہ جذبات سے بلند اور صلح کل تھیں، ان کا دل بڑا وسیع تھا، اس میں مسلمانوں کے لئے بھی جگہ تھی، مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ ان کے دوستانہ تعلقات رہے، اور اس فرقہ ورانہ دور میں بھی ان کے خیالات اور طرزعمل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی، ہندو مسلمانوں کے بعض اختلافی مسائل میں ان کے ذاتی خیالات حکومت کی پالیسی سے مختلف تھے، جن کو وہ صاف طریقہ سے ظاہر نہ کرسکتی تھیں، لیکن ان کی جھلک ان کی تقریروں میں نظر آجاتی تھی، وہ مغربی تعلیم یافتہ تھیں، ان کی ساری زندگی سیاسی میدان میں گزری، اس کے باوجود ان میں نسوانی اور مشرقی خصوصیات موجود تھیں، دل میں نسوانی مہرومحبت، طبیعت میں خلق و مروت، مزاج میں شگفتگی و خوش اخلاقی اور تہذیب و معاشرت میں مغربی آب و رنگ کے ساتھ مشرقی روح جھلکتی تھی، وہ اپنے طرز عمل سے ہندو مسلمان دونوں میں مقبول تھیں اور دونوں کا اعتماد ان کو حاصل تھا، اس لئے ان کی موت دونوں کا قومی حادثہ ہے، ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے اب ایسی شخصیتوں کا پیدا ہونا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے۔ (شاہ معین الدین ندوی، مارچ ۱۹۴۹ء)