Khan, Mohammad Nawaz
Institute for Educational Development, Karachi
MEd
Aga Khan University
Private
Karachi
Sindh
Pakistan
2011
Completed
Education
English
2021-02-17 19:49:13
2024-03-24 20:25:49
1676728003098
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
LLM | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
BS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MSc | Quaid-i-Azam University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, Multan, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
الحاج منظور علی لکھنوی مرحوم
دارالمصنفین میں الحاج منظور علی لکھنوی کی رحلت کی خبر بڑے افسوس کے ساتھ سنی گئی، ۲۸؍ رمضان المبارک کو وہ اپنے خالق حقیقی کے جوار رحمت میں پہنچ گئے، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وہ زندگی میں پاکیزہ اطوار رہے، آخری وقت بھی اس پاکیزگی کی شہادت کے لیے قدرت نے مقرر کردیا، وہ سیاسی رہنما تھے اور نہ عالم و فاضل لیکن ان کی زندگی قطرے سے گہر ہونے کی کہانی ہے، کلکتہ کے ہوٹل بزنس سے تعلق تھا، ان کا رائل انڈین ہوٹل کلکتہ کے مشہور ترین ہوٹلوں میں ہے، تمول کی آغوش میں آنکھیں کھولیں، عام امیر زادوں کا رنگ ڈھنگ ہونا قدرتی تھا، ایک وقت تھا کہ قیمتی پتھروں اور بیش قیمت خوشبوؤں کو جمع کرنے کا شوق تھا لیکن فطرت کی سلامتی اور سرشت کی پاک طینتی نے ایک دن ان کی زندگی کا رخ بدل دیا، ثروت کو اﷲ کی دی ہوئی نعمت سمجھنے اور برتنے کی توفیق، باندازۂ ہمت ملی اور زندگی قابل رشک ہوگئی، دارالعلوم ندوۃالعلما کی مجلس انتظامیہ، مسلم پرسنل لابورڈ، ملی کونسل، امارت شرعیہ جیسے باوقار اداروں کی رکنیت اور سب سے بڑھ کر حجاج کرام کی پیہم خدمت نے ان کو اپنے طبقہ میں امتیاز کا شرف بخشا اور اس سے زیادہ کلکتہ میں ان کی وہ رفاہی خدمات ہیں جن کا علم بہ جزاﷲ اور ان کے انتہائی قریبی لوگوں کے اور کسی کو نہیں معلوم، کمال کے شخص تھے مولانا عبدالماجد دریا بادی کو کبھی نہیں دیکھا لیکن ان کی تحریروں کے ایسے شیدائی ہوئے کہ ان کی کتابوں کی خوبصورت ترین اور نہایت دیدہ زیب طباعت و اشاعت کے لیے بغیر کسی تاجرانہ فائدے کے، اپنے مال کا بے دریغ استعمال کیا، ادارہ انشائے ماجداسی نیت سے قائم کیا جس نے خطبات ماجد سے مکتوبات ماجدی تک مولانا...