سر فضل حسین
سر فضل حسین کا ماتم ملک کے گوشہ گوشہ میں برپا ہے، مرحوم کے سیاسی مسلک سے کسی کو کتنا ہی اختلاف ہو، مگر ان کی قابلیت، تدبر، بے خوفی، دلیری، ہردلعزیزی اور قومی بہی خواہی سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو، وہ ان حکومت پسندوں میں نہ تھے جو اپنی شخصی ترقی کو صرف اپنی خاندانی ترقی کا زینہ بناتے ہیں، بلکہ ان میں جو حکومت کا ساتھ دے کر اپنی سمجھ کے مطابق قوم و ملک کی بھلائی کرتے ہیں، مرحوم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ جس محفل میں ہوتے تھے اس پر چھا جاتے تھے، وہ فطری لیڈر تھے اور دوسرے ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھے، وائسرائے کی کونسل کے ممبر ہوکر گویا یہ کہنا چاہئے وہ صرف ممبر نہیں رہے تھے، بلکہ اپنی دانائی، عزم، حسن تدبیر اور دلائل کی قوت کی بناء پر پوری کونسل کی عنانِ سیاست کے تنہا مالک تھے۔
مرحوم مرض دق کے بیمار تھے، پھر مجلسِ حکومت کی رکنیت سے علیحدہ ہوکر انہوں نے آرام نہیں کیا، بلکہ سیاسیات پنجاب کی الجھی ہوئی گتھی کو اپنی شبانہ روز کی محنت سے سلجھانے میں مصروف ہوگئے اور یہ ان کا کمال سمجھنا چاہئے کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک متحدہ سیاسی پارٹی بنانے میں کامیاب ہوگئے اور خود اعتمادی یہ تھی کہ ہر مخالف کوشش کو بے حقیقت سمجھ کر اپنے کام میں بے خوف لگے رہے، گوہم کو یہ معلوم ہے کہ اس متحدہ پارٹی کی پراگندہ اوراقِ کتاب کا شیرازہ کس نے باندھا، تاہم مرحوم کی مہارت فن کی داد دینی پڑتی ہے کہ خود شیرازہ بند کو بھی یہی محسوس ہوتا تھا کہ ان منتشر اوراق کا شیرازہ خود ان کی ذات ہے، پروردگار عالم ان پر رحمت فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے...
The research deals with the exegesis of the meanings of the Holy Qurānic. It sheds light on the Qurānic context and to what extent it has been taken care of in the modern dictionaries compiled for the meanings of the difficult words of the Holy Qurānic. Cocntext is one of the most prominent phenomenon for help in determining the meanings of the Qurānic words and its exegesis. The research defined context, both as a lexical and technical word. It described its importance in the Holy Qurānic. It then differentiated between context and Nazm (order) which is discussed by both exegete and scholars of rhetoric. It was followed by Qurānic context, its features and importance. It then brought examples from some selected dictionaries which gave importance to the Qurānic context while explaining the meaning of the difficult words. The research concluded that there is great role of Qurānic context in explanation of the words. It is a phenomenon which has been taken care of right from the Holy Prophet and his companions up to the exegete of modern world.
Asymmetric cryptography based on groups is mainly concerned with the role of noncommutative groups. The origin of group based cryptography goes back in the 1980s. Since then, numerous cryptographic proposals based on noncommutative groups have been evolved. In this thesis, we consider several noncommutative settings in di erent cryptographic context. This study adds to the cryptographic literature by demonstrating new asymmetric cryptographic schemes. On the one hand, two new public key exchange protocols and two asymmetric cryptosystems are constructed. On the other hand, di erent primitives like suggestion of plat- form, size of di erent parameters, security and e ciency aspects regarding these proposals, are also elaborated.