ثمینہ
ہلال نقوی
MA
University of Karachi
Public
Karachi
Sindh
Pakistan
1999
192
Literature
Urdu
اردو ادب
2021-02-17 19:49:13
2023-01-06 19:20:37
1676728252489
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
BS | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | University of Sindh, Hyderabad, Pakistan | |||
BS | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, Multan, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | University of Sindh, Jamshoro, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا محمد عارف سنبھلی
دارالعلوم ندوۃالعلما کے تفسیر و عقائد کے استاد مولانا محمد عارف سنبھلی ۹؍ جون ۲۰۰۶ء کو جمعہ کے دن دفعتہ وفات پاگئے، فجر کی نماز اور ضرورتوں سے فارغ ہونے کے بعد یکایک ان پر کپکپی طاری ہوئی، گھر والوں سے کچھ اڑھانے کے لیے کہا مگر چند ہی سکنڈ میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وہ عرصے سے ندوۃالعلما میں درس و تدریس کی خدمت انجام دے رہے تھے اس سے پہلے دوسرے مدارس سے وابستہ تھے، ایک زمانے میں جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ سے منسلک تھے اور دارالمصنفین کے کتب خانے سے استفادے کے لیے مولوی حبیب اﷲ رانچوی ندوی کے ساتھ یہاں آتے اور لوگوں سے ملنے جلنے کے بجائے سارا وقت مطالعہ میں گزارتے، مولوی حبیب اﷲ سے میرا تعلق پرانا تھا ان ہی کے ساتھ میرے پاس آجاتے مگر وہ کم آمیز تھے اس لیے زیادہ کھل کر باتیں نہیں کرتے، ندوہ میں تو بڑی چہل پہل تھی مگر وہاں بھی کسی سے بہت بے تکلف نہیں دیکھا، عصر بعد مولانا علی میاں کی مجلس میں ضرور شریک رہتے مگر دوسروں کی طرح بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کرتے خاموشی سے بیٹھے رہتے۔
مولانا عارف صاحب کا مطالعہ وسیع تھا، قرآنیات، کلام و عقائد سے شغف تھا، تفسیر و قرآنیات سے مناسبت کی بنا پر اترپردیش اردو اکادمی نے مولانا عبدالماجد سمینار کے ان مقالات کی ایڈیٹنگ ان کو سپرد کی تھی جو مولانا کی تفسیر پر تھے، ان میں میرا بھی مضمون تھا، اتفاق سے میں ندوہ گیا تو مجھ کو اپنے گھر لے گئے اور کہنے لگے کہ آپ کا مضمون مجھے بہت پسند ہے اور میں چاہتا ہوں کہ پورا چھپے مگر اکادمی کے ذمہ داروں کا اصرار ہے کہ یہ طویل ہے، آپ آگئے ہیں تو اس...