Search or add a thesis

Advanced Search (Beta)
Home > Pathan Suharwardiah Saints of N.W.F.P.

Pathan Suharwardiah Saints of N.W.F.P.

Thesis Info

Author

Farman Ali

Supervisor

A. F. M. Saghiruddin

Program

PhD

Institute

University of Sindh

Institute Type

Public

City

Jamshoro

Province

Sindh

Country

Pakistan

Thesis Completing Year

1981

Thesis Completion Status

Completed

Subject

Islamic Culture

Language

English

Added

2021-02-17 19:49:13

Modified

2023-01-06 19:20:37

ARI ID

1676729265631

Similar


Loading...
Loading...

Similar Books

Loading...

Similar Chapters

Loading...

Similar News

Loading...

Similar Articles

Loading...

Similar Article Headings

Loading...

مولانا شاہ وصی

مولانا شاہ وصی اﷲ رحمۃ اﷲ
حضرت مولانا شاہ وصی اﷲ رحمۃ اﷲ کی وفات سے رشد و ہدایت کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا، وہ اس دور کے بڑے شیخ طریقت اور سالکین کی اصلاح و تربیت میں اپنے مرشد حضرت مولانا تھانویؒ کا مثنی تھے، ان کی وفات کے بعد ان کی ذات طالبین کا مرجع بن گئی تھی، ان سے ایک مخلوق فیضیاب ہوئی، ان کی اصلاح و تربیت سے ہزاروں بگڑی ہوئی زندگیاں سنور گئیں، گم کر وہ راہوں کو راہ راست اور تاریک دلوں کو ایمان کی روشنی ملی ادھر چند برسوں سے جب مولانا نے اپنے وطن فتح پور تال ترجا کا گوشۂ عافیت چھوڑ کر الٰہ آباد کا قیام اختیار فرمایا، آپ کا فیض پورے ہندوستان میں پھیل گیا تھا، جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا مرجوعہ خاص طور سے بہت بڑھ گیا تھا اور اس کی خصوصیت سے زیادہ فائدہ پہنچا۔
حضرت مولانا خلقۃً نحیف و ناتواں تھے، عمر کے تقاضے اور فالج کے اثر نے اور کمزور کردیا تھا، اس کے باوجود آپ کے معمولات اور فیض رسانی میں فرق نہ آیا تھا، اسی حالت میں گزشتہ شعبان میں حج کا قصد فرمایا، مگر وقت موعود آچکا تھا، جہاز کی روانگی کے کل دو دن بعد ۲۵؍ نومبر کی شب کو تہجد کی نماز سے فراغت کے بعد اور فجر کی نماز سے پہلے روح مبارک عالم قدس میں پہنچ گئی، جہاز کے قاعدہ کے مطابق ہر متوفی کی لاش تجہیز و تکفین کے بعد سمندر کی موجوں کے حوالے کردی جاتی ہے، مگر جس دربار سے طلبی ہوئی تھی، اسی نے اس کا انتظام بھی کردیا کہ لاش کو جدہ لے جانے کی اجازت مل گئی، اور یقین ہے کہ اس وقت تک جسدِ خاکی کو جنتُ البقیع کی مقدس سرزمین میں سپرد خاک کردیا گیا ہوگا۔
پہنچی...

اسلام اور شاعری

am offers a complete code of life. It covers all aspects of human life. Literature, Art and Aesthetics are all a very crucial part of man's life. Quran and Hadith have had a revitalizing impact on literature. Besides being the core source of 'the guidance', they are nonetheless significant literary pieces. Our Holy Prophet (PBUH) himself devoted special focus on the development and promotion of various genres of prose like letter-writing, oratory, proverbs, etc. However, poets have been condemned in the Quran. Our Holy Prophet himself has kept a distance from poetry. So interestingly poetry has become a rather controversial literary genre among Muslims. Therefore in this article we make an effort to see the real Islamic perspective regarding poetry and poei in light of its original and primary sources Quran and Hadith

سعادت حسن منٹوبطور مضمون نگار اور خاکہ نگار : تحقیقی و تنقیدی جائزہ

سعادت حسن منٹو اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ انہوں نے دیگر تخلیقی اور غیر تخلیقی جہات میں بھی طبع آزمائی کی ہے جن میں صحافتی کالم، ریڈیائی ڈرامہ،مضمون نگاری اور خاکہ نگاری میں انُہیں خاص شہرت حاصل تھی۔ اس مقالے کاموضوع س”عادت حسن منٹو بطور مضمون نگار اور خاکہ نگار (تحقیقی و تنقیدی جائزہ) “ہے۔ مقالے کو سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا اجمالی تعارف درج ذیل ہے۔ پہلے باب میں اردو مضمون نگاری کی روایت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مضمون نگاری کے آغاز و ارتقا کے علاوہ اس کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ مضمون اور مضمون نگاری کی فنی ضروریات کا احاطہ کرنے کے علاوہ اس باب میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ باقاعدہ اردو مضمون نگاری سے قبل اردو نثر کا رواج موجود تھا تاہم مضمون نویسی یا انشا پردازی کا با قاعدہ آغاز دلی کالج کے استاد ماسٹر رام چندر اور بعد ازاں سر سید تحریک سے ہوا۔ اس سے قبل اردو نثر میں زبان و بیان میں تصنع اور تکلف کے سبب خیالات کی روانی متاثر ہوتی تھی لیکن دلی کالج اور سرسید تحریک نے اردو مضمون نگاری کو ایسا اسلوب عطا کیاجس میں علمی،ادبی،سائنسی،مذہبی اور معاشرتی ہر طرز کے مضمون لکھے جا سکتے تھے۔ اس باب میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اردو کے ابتدائی مضمون نگار کون کون سے تھے اور مضمون کی اولیں صورتیں کیا تھیں جبکہ اردو مضمون نگاری ماسٹر رام چندر اور سر سید کے عہد سے لے کر منٹو کے عہد تک کیسے ارتقاء پذیر ہوئی اور اس میں کیا نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ دوسرا باب منٹو کے مضامین سے متعلق ہے۔ اس میں منٹو کے مضامین کے موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ منٹو کے مضامین میں ان کے انشائی، فکاہی،ادبی و شخصی،سیاسی و سماجی اور فلمی موضوعات پر مبنی مضامین کے حوالے سے منٹو کے ادبی ،سیاسی اور سماجی نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ منٹو کے ادبی، سیاسی و سماجی نظریات ان کے عہد سے ہم آہنگ تھے۔ منٹو کے عہد میں علمی مضمون نگاری کا رواج ہو چکا تھا لیکن ان کے مضامین کا عمومی انداز فکاہی ہی رہا۔ تاہم اس باب میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ منٹو کے انتخاب کردہ موضوعات اپنے اندر ایک گہری سنجیدگی اور تفکر بھی رکھتے ہیں۔ تیسرے باب میں منٹو کی اہمیت بطور مضمون نگار متعین کی گئی ہے۔ نیز ان کے مضامین کے اسلوب کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ منٹو کے مضامین پر ان کے افسانوں کا اسلوب کس قدر اثر انداز ہوا ہے اور اردو مضمون نگاری میں منٹو کے اسلوب کی اہمیت و افادیت کیا ہے۔ نیز اسی باب میں منٹو کی بحیثیت مضمون نگار اہمیت متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوتھا باب اردو ادب میں خاکہ نگاری کے آغاز و ارتقا اور اس کے فن سے متعلق ہے۔ اس باب میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اردو ادب میں خاکہ نگاری کے آثار بعض قدیم تذکروں اور سوانح میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ تا ہم " آب حیات" اس ضمن نمایاں تذکرہ ہے جس میں خاکہ نگاری کے واضح نقوش ملتے ہیں۔ اسی طرح اردو خاکہ نگاری کے ارتقاء میں دیگر خاکہ نگاروں کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی باب میں اردو خاکہ نگاری کے فن پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ نیز ایک جائزہ اردو خاکہ نگاری کی تاریخ کا بھی لیا گیا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی خاکہ نگاری کا مفصل جائزہ پانچویں باب میں لیا گیا ہے۔ اس باب میں منٹو کے خاکوں کو تین بڑے عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیاسی،ادبی و صحافتی اور فلم کے شعبے سے وابستہ شخصیات پر مشتمل خاکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی باب میں منٹو کی خاکہ نگاری کے نمایاں اوصاف اور اردو فن خاکہ نگاری پہ ان کی دسترس نیز اردو خاکہ نگاری میں افسانوی طرز اظہار کے حوالے سے ان کے خاکوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ چھٹا باب فن خاکہ نگاری میں منٹو کے مقام کے تعین کے بارے میں ہے۔ اس میں منٹو کے خاکوں کے اسلوب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز ان کے اسلوب کے نمایاں اوصاف اور ان کے اسلوب کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور ان کے ہم عصر اہم خاکہ نگاروں سے ان کا تقابل کرتے ہوئے اردو خاکہ نگاری پر ان کے اثرات اور اردو خاکہ نگاری میں ان کے مقام کے تعین کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتواں باب مجموعی مطالعے پر مشتمل ہے۔ اس باب میں مقالے میں جن مباحث پر گفتگو کی گئی ان کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنےکی کوشش کی گئی ہے اور منٹو کی اردو ادب میں اہمیت اور ان کے متعین مقام و مرتبے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اردو ادب کی دیگر اصناف افسانہ نگاری،ڈرامہ نگاری اور منٹو کی صحافتی زندگی سے ان کی کالم نگاری کا بھی اجمالا ًتذکرہ کیا گیا ہے اور اردو مضمون نگاری اور خاکہ نگاری پر ان کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ نیز اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ منٹو کے مضامین اور خاکوں میں کون سے اشتراکات ہیں کہ ان کا جائزہ ایک ہی مقالے میں لینے کی ضرورت پیش آئی۔ اسی طرح ان کی تخلیقی نثر پر ان کی غیر افسانوی نثر کے اثرات کا بھی ایک مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔