حافظ عبد الرحمن
حافظ افتخار احمد
Mphil
The Islamia University of Bahawalpur
Public
Bahawalpur
Punjab
Pakistan
2008
Completed
Islamic Studies
Urdu
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676729589405
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | University of Sargodha, سرگودھا | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | University of Balochistan, Quetta, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | The University of Lahore, Lahore, Pakistan | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
PhD | University of Sargodha, Sargodha, Pakistan | |||
Mphil | University of Management & Technology, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
PhD | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Riphah International University, Islamabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
شاہ فیصل
۲۴؍ مارچ ۱۹۷۵ء کو سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید کردیئے گئے، اس حادثہ جانکاہ سے اسلامی ممالک میں اندوہ و غم کا ایک بادل امنڈ پڑا کہ آہ! اسلام کا پاسبان، اسلامی حمیت و غیرت کا نگہبان، اسلامی موانست و یگانگت کا حدی خوان نہیں رہا، اسلامی زندگی کی قوت پنہاں کو آشکار، مسلمانوں کے سینوں میں عزائم کو بیدار اور ان کی نگاہوں کو تلوار کرنے والا جاتا رہا۔
مدتوں کے بعد بڑی مشکل سے اسلامی دنیا میں ایک دیدہ ور پیدا ہوا، جس کے مقاصد جلیل تھے، جس کی ادائیں دلفریب اور نگاہیں دلنواز تھیں، اسلام کے اس بطل حریت نے صرف گیارہ سال حکومت کی، مگر اس کے سارے کارنامے اسلامی تاریخ کے زریں باب بن کر رہیں گے، سعودی عرب کو دنیا کے متمول ترین ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو سج دھج کر فردوس نگاہ بنادیا، پٹرول کو جنگی اسلحہ سے زیادہ مہلک تسلیم کراکے دنیا کی اہم طاقتوں کو بھی اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا، حاتم طائی کی افسانوی سخاوت کی شہرت کو بلند کرکے عربوں کو اپنے مالی امداد سے سربلند اور سرخرو کیا، بچھڑے ہوئے مسلمان ملکوں کی دست گیری کرکے ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دلایا، اسلامی بینک، اسلامی سکریٹریٹ، اسلامی خبر ایجنسی اور اسلامی سربراہ کانفرنس کی روح رواں بن کر یہ خاموش پیام دیا کہ توحید کی امانت سینے میں رکھنے والے اخوت کا بیان اور محبت کی زبان بن کردہر کو اسم محمد سے اجالا کردیں، اور جب کتاب ملت بیضا کی شیرازہ بندی سے پھر سے ہورہی تھی تو آیات الٰہی کے اس نگہبان کو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے اپنے پاس بلالیا، جہاں رخ در رخ محمدی سے کہہ رہا ہوگا:
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان...