محمد عثمان خالد
حافظ افتخار احمد
Mphil
The Islamia University of Bahawalpur
Public
Bahawalpur
Punjab
Pakistan
2013
Completed
Islamic Studies
Urdu
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676729593513
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Sargodha, سرگودھا | |||
MPhil | Islamia College Peshawar, Peshawr, Pakistan | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Al Hamad IslamicUniversity Islamabad, RAWALPINDI (R026), Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | Aligarh Muslim University, علی گڑھ | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا مفتی شفیع صاحب
۶؍ اکتوبر کو ریڈیو پاکستان سے یہ اندوہناک خبر معلوم ہوئی کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال فرما گئے، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
ان کی طبیعت عرصہ سے خراب تھی، اس پیرانہ سالی میں جواں سال فرزند کی وفات کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا، کئی بار دل کا دورہ پڑچکا تھا، بالآخر اس بیماری دل نے کام تمام کردیا۔
وہ دیوبند کے عثمانی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، اور یہیں ۱۳۱۴ھ میں پیدا ہوئے تھے، ان کے والد مولانا محمد یٰسین صاحب دارالعلوم دیوبند میں مدرس تھے، مفتی صاحب نے ان سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۳۳۰ھ میں دارالعلوم کے عربی درجہ میں داخلہ لیا، مولانا مفتی عزیزالرحمن، مولانا انورشاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد ابراہیم بلیاوی اور مولانا اعزاز علی وغیرہ اکابر علماء سے درسیات کی تکمیل کی، مولانا قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم اور مولانا شاہ وصی اﷲ کے ہم سبق تھے، ۱۳۳۶ء میں درس نظامی سے فراغت کے بعد دارالعلوم میں درس و تدریس کی خدمت پر مامور ہوئے، اس عرصہ میں دارالافتار کے سربراہ مولانا مفتی عزیز الرحمن کے زیر نگرانی فتویٰ نویسی کا کام بھی انجام دیتے رہے، ان کے انتقال کے بعد ۱۳۵۰ھ میں یہ شعبہ خود ان کے سپرد کیا گیا اور بارہ سال تک اس خدمت کو خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے، دارالعلوم دیوبند کی فتویٰ نویسی کی تاریخ میں یہ دونوں بزرگ اپنے علم و فضل اور فقہی و دینی بصیرت کی وجہ سے برابر یاد کیے جائیں گے، ملک کی تقسیم کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کی دعوت پر پاکستان کے اسلامی دستور کا خاکہ تیار کرنے کے لئے مئی ۴۸ء میں کراچی تشریف لے گئے، پھر وہیں مستقل طور پر رہ گئے، دارالعلوم دیوبند کے طرز...