انس رشید
محمد عمران
Mphil
The Islamia University of Bahawalpur
Public
Bahawalpur
Punjab
Pakistan
2020
Completed
Islamic Studies
Urdu
2021-02-17 19:49:13
2023-02-19 12:33:56
1676729649993
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of Sargodha, سرگودھا | |||
PhD | University of Sargodha, سرگودھا | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
PhD | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Qurtuba University of Science and Information Technology, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
Mphil | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Qurtuba University of Science and Information Technology, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
PhD | Allama Iqbal open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کی اقبال شناسی پر ایک نظر
ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید عرفانی اقبال شناسی میں اہم مقام و مرتبہ رکھتےہیں۔ ڈاکٹر عرفانی نے عالمی سطح پر اقبال شناسی کی روایت میں نام کمایا۔ اقبال کو ایران میں متعارف کرانے کا سہرا خواجہ عرفانی کے سر جاتا ہے۔ عرفانی صاحب کی ادبی خدمات بے پایاں ہیں مگر ہمیں یہاں صرف عبدالحمید عرفانی کی اقبال شناسی کا جائزہ لینا ہے۔ اقبال کو ایران میں متعارف کرانے کے لیے ’’رومی عصر‘‘ جیسی مدلل کتاب، پاکستان میں جنم لینے والی مشہور عشقیہ داستانوں کو ’’داستان پائے عشق پاکستان‘‘ کے نام سے ایرانیوں کے لیے ’’ضربِ کلیم‘‘ کا فارسی ترجمہ لکھنا اور عبدالحمید عرفانی کی بے پایاں محنت اور اقبال سے محبت کی غماز ہیں۔ خواجہ عبدالحمید عرفانی نے علامہ اقبال پر ’’اقبال ایرانیوں کی نظر میں‘‘ ،’’اقبالِ ایران‘‘ اور ’’پیامِ اقبال‘‘تین کتابیں لکھی ہیں۔
’’اقبال ایرانیوں کی نظر میں ‘‘ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اقبال سے آشنا ہونے کے بعد اہلِ علم ایرانیوں کی اقبال کے بارے میں رائے اپنے بزرگ شعرا جیسی تھیاور وہ اقبال کو حافظ ،جامی ،سعدی اور رومی کی صف میں شمار کرنے لگے تھے۔ ’’اقبال ایران‘‘ میں ڈاکٹر عرفانی نے اپنے قیام ایران کے دوران اقبال کو ایران میں متعارف کرانے کی جدوجہد، ایرانیوں کی اقبال سے آشنائی اور ایرانیوں کی اقبال اور پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے کا تذکرہ کیا ہے۔ ’’پیامِ اقبال‘‘ میں ڈاکٹر عرفانی نے طلبا کی سہولت کے لیے اقبال کے پیغام کا خلاصہ چند صفحات میں پیش کیا ہے۔ اقبال کو ایران میں متعارف کرانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس دوران عرفانی صاحب کو بہت سی مشکلات در پیش آئیں۔ جن کا تذکرہ انھوں نے ’’اقبالِ ایران‘‘ میں کیا ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے ’’اقبالِ ایران‘‘ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی...