فیض اللہ بغدادی
فیکلٹی علوم اسلامیہ وشریعہ
Mphil
Minhaj University Lahore
Private
Lahore
Punjab
Pakistan
2015
2017
2017
Complete
Urdu
طب نبویﷺ علاج بالحجامہ اور جدید میڈیکل سائنس طب اسلامی مسلم اطباء
Medicines of the Prophet PBUH , Hijama
2021-02-17 21:00:26
2023-02-19 12:33:56
1676729669419
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | Minhaj University Lahore, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Peshawar, پشاور | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, Multan, Pakistan | |||
Mphil | Mohi Ud Din Islamic University, نیریاں شریف | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
LLM | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | The University of Faisalabad, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
پروفیسر آرنلڈ
پچھلے مہینے کی علمی سوانح میں دو فاضلوں کی وفات کا سانحہ خاص طور سے اہم ہے، ان میں سے ایک مغرب نژاد اور دوسرا مشرقی تھا، پہلے کو ہندوستان اور ہندوستان کے مسلمان پروفیسر آرنلڈ کے نام سے جانتے ہیں، یہ فلسفہ کے عالم ہونے کے ساتھ عربی اور اسلامیات کے بھی ماہر تھے، یہ ہندوستان آکر پہلے اسلامیہ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے، اور پھر بعد کو محمڈن کالج علی گڑھ میں پروفیسر ہوکر آئے اور یہیں ان کی شہرت کا ستارہ چمکا، ان کی خاص خصوصیت علم کے ساتھ ان کا حسن اخلاق تھا، وہ مشرقی علماء کے ساتھ ہمیشہ گھل مل کر رہتے، اور لاہور ہو یا علی گڑھ ہر جگہ انھوں نے اپنے رفیق علماء سے کچھ سیکھا اور ان کو کچھ سکھایا، اور خصوصیت کے ساتھ لاہور میں قاضی ظفرالدین صاحب مرحوم اور علی گڑھ میں مولانا شبلی نعمانی مرحوم کے ساتھ ان کے دوستانہ اور علمی تعلقات رہے، اور ان واقعات کا نتیجہ لاہور میں ان کی تالیف السواء السبیل فی معرفۃ العرب والدخیل اور علی گڑھ میں ان کی مشہور تصنیف دعوت اسلام ہے۔
مولانا شبلی مرحوم اور ان میں تعلقات ٹھیک استاد اور شاگرد کے تھے، مگر یہ فیصلہ مشکل ہے کہ ان میں استاد کون اور شاگرد کون تھا، مولانا نے ان سے کچھ فرنچ سیکھی تھی، اور انھوں نے ان سے عربی ، مولانا مرحوم کے سفرترکی میں سمرناتک وہی رفیقِ سفر تھے، مولانا نے اپنے سفرنامہ میں اس کا حال لکھا ہے، سفر روم والے فارسی قصیدہ میں لکھتے ہیں،
آرنلڈ آنکہ رفیق است وہم استاد مرا
استاد کے استاد سے ۱۹۲۰ء میں لندن میں میری ملاقات ہوئی تھی، وہ اس وقت انڈیا آفس سے متعلق تھے، مولانا مرحوم کے تعلق کے سبب سے مجھ سے بڑی محبت سے پیش...