ناصر علی،حافظ
ابرار محی الدین
MA
The Islamia University of Bahawalpur
بہاولپور
2016
Urdu
فقہی مسائل , غیرمسلم سے موالات
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676730222078
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The University of Haripur, ہری پور | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
MA | Haripur University, Haripur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | University of Management & Technology, لاہور | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
BS | ICFW, لاہور | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
- | University of Management & Technology, لاہور | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | University of Management & Technology, لاہور | |||
- | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
طاہر شادانی(۱۹۱۶ء۔۱۹۷۰ء)کا اصل نام محمد صدیق ہے۔ شادانی پسرورپیدا ہوئے ۔آپ نے یونیورسٹی اورنٹیل کالج لاہور میں شادان بلگرامی اور حافظ محموود شیرانی سے کسبِ فیض حاصل کیا۔ ان کی ساری زندگی تعلیم وتعلم میں گزری۔ تعلیم سے فراغت کے بعد محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ ۱۹۸۲ء میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔ آپ نے ضیا محمد ضیا اور حفیظ صدیقی کی رفاقت میں پسرور میں حلقہ ارباب ذوق کے نام سے ادبی حلقہ قائم کیا۔ (۶۸۲)
طاہر شادانی نے اردو ادب میں شاعری کے ساتھ ساتھ تدوین اور ترجمے میں بھی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ آپ کا کلام ’’فنون‘‘ ،’’شام و سحر‘‘ ،’’اقرار‘‘ ،’’الہلال‘‘،تحریریں ،’’سیارہ‘‘،اور ’’شاخسار‘‘ کے علاوہ دیگر ملکی سطح کے رسائل و جرائد میں چھپتا رہا۔ آپ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ لاہور سے بھی وابستہ رہے۔ اور چھٹی سے دسویں تک اردو کی درسی کتابیں مرتب کیں۔ اردو قواعد و انشا کے حوالے سے بھی شادانی نے علمی کتابیں تالیف کیں۔ آپ کا صرف ایک شعری مجموعہ’’شعلہ نمناک‘‘ ایوانِ ادب لاہور سے ۲۰۰۰ء میں ان کی زندگی میں شائع ہوا۔ ان کا بہت سا شعری کلام مختلف رسائل و جرائد میں بکھرا پڑا ہے۔
طاہر شادانی نے اپنے شعری مجموعے ’’شعلہ نمناک‘‘ کا آغاز حمدوں سے کیا ہے۔ لیکن شادانیؔ کی یہ حمدیں صرف روایت کاتتبع نہیں ہیں۔ حمد و نعت کی طرف ان کا ذہنی میلان ابتدا سے تھا۔ شادانی کی شاعری پر اقبال کے اثرات واضح طورپر محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔ان کی حمدوں میں دعا کا وہی انداز ہے ۔جوا قبال کے ہاں ہے اقبال نے اپنی نظم دعا میں اﷲ سے نیک انسان بننے کی دعا مانگی ہے۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری