محمد شعبان
افتخار احمد شاہسیّد
MA
Minhaj University Lahore
لاہور
2012
Urdu
خلافت و جمہوریت
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 17:33:40
1676730348078
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, Lahore, Pakistan | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
- | The University of Lahore, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
خلیج نغمہ
غروب آفتاب کے بعد ہم بس میں سوار ہوئے تو رہبر نے عربی زبان میں اعلان کیا کہ اب ہم خلیج نغمہ جائیں گے ۔کچھ دیر کی مسافت کے بعد ہم خلیج نغمہ کے ایک پر رونق بازار میں تھے ۔خلیج سویز کے کنارے آباد اس خوبصورت قصبے میں عیش و نشاط کے سارے سامان میسر تھے ۔یہاں کسینو ،مساج سنٹراور شراب خانوں کے ساتھ ساتھ ایسے متعدد ہوٹل بھی ہیں جہاں حلال خوراک اور سمندری غذائوں پر مشتمل کھانے دستیاب ہیں ۔ ہوٹلوں کے کارکن گاہکوں کو اپنی طرف راغب کر نے کے نت نئے طریقے اور سلیقے اپنائے ہوئے تھے ۔دکانیں فرعونی تہذیب سے منسلک اشیا ء میں فرعونی مجسموں کی بھرمار تھی ۔قلو پطرہ اور نفرتیتی کے مجسمے کچھ زیادہ ہی تعداد میں تھے جبکہ ابوالھول کے مجسمے تو چوراہوں میں بھی لگے تھے ۔ابوالھول اور قلو پطرہ کے ناموں سے مجھے واقفیت تھی مگر نفرتیتی میرے لیے بالکل نیا نام تھا ۔دکتور محمد علی کہ نفرتیتی فرعون بادشاہ اخناتون کی بیو ی تھی جو بہت حسین و جمیل اور امورِ حکمرانی کا فہم رکھنے والی خاتون تھی ۔مذہب کے حوالے سے بھی اس کی شہرت باقی فرعونی ملکائوں سے مختلف ہے ۔ اخناتون نے جب مذہب تبدیل کیا اور آمون کے خدائوںسے انکار کر کے خدائے یکتا پر ایمان کا اعلان کیا تونفرتیتی نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔تاریخ نفرتیتی کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کے ایک اورعمل سے بھی پردہ اٹھاتی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ چشمِ غزال اور دلکش خدو خال رکھنے والی نفرتیتی جنسی عمل میں نت نئے انداز اپنانے کے لیے بھی شہرت رکھتی تھی ۔فرعونیات کے ماہرین کے مطابق دنیا میں ’’اور ل سیکس ‘‘دہن لذتی کی ابتدا ء اس خاتون سے ثابت ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس کے حنوط...