محمد فیصل روٴف
اللہ دتہ طاہر
MA
Minhaj University Lahore
لاہور
2006
Urdu
معاشی ترقی
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 17:33:40
1676730396390
علامہ اقبال کا آخری مجموعہ کلام جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ اس میں اردو اور فارسی کلام الگ الگ شائع ہوا۔ اقبال بیماری کے باوجود تخلیق کی طرف مائل رہے۔ اقبال کی مشہور نظم " ابلیس کی مجلس شوری “ارمغان حجاز ہی میں شامل ہے۔
”ارمغان حجاز“ فارسی حصہ کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر عبدالحق نے لکھا ہے کہ فارسی حصہ اردو حصہ سے دو تہائی زیادہ ہے اقبال کو زندگی نے اتنی مہلت نہ دی کہ اس کا مسودہ دیکھ سکتے ۔ وفات کے بعد چودھری محمد حسین نے مسودہ کو مرتب کر کے نومبر 1938ء میں شائع کیا ۔ کلیات اقبال فارسی کے آخر میں ارمغان حجاز کا فارسی حصہ شامل ہے اور اردو کلیات کےآخر میں ارمغان حجاز کا اردو حصہ شامل ہے۔
دیگر کتب کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر عبد الحق نے اقبال کے خطوط کا ذکر کیا جو یکجا کر کے چار ضخیم جلدوں میں ”کلیات مکاتیب اقبال “کے نام سے منظر عام پر آیا ہے اس کے مرتب سید مظفر حسین برنی ہیں۔
اقبال کی انگریزی تقریروں کے اردو تراجم، اقبال کے بیانات، غرض ہر چیز محفوظ ہے اور اقبالیات کے لیے ان کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے ” مونوگراف “کے فواعد کی روشنی میں مختصراً کتب کا تعارف پیش کیا ہے تا کہ مطالعہ کرنے والا اقبال کی کتب سےکچھ تعارف حاصل کرے اور اقبال کی کتب کے سن اشاعت وغیرہ کا اسے پتا ہو۔ بہت زیادہ مفکرانہ تفصیل سے کتابوں کے حوالہ سے گفتگو نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی مونوگراف میں اس کی ضرورت ہے۔