رضاء اللہ خان
حید رشاہ
Mphil
University of Balochistan
کوئٹہ
2011
Urdu
جہاد , دہشت گردی؟
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676730793601
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Mphil | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | HITEC University Taxila Cantt, ٹیکسلا | |||
PhD | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
MA | University of Peshawar, پشاور | |||
MA | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Federal Urdu University of Arts, Sciences & Technology, کراچی | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
MS | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Poonch, راولاکوٹ | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
آثم فردوسی
آثم فردوسی (۱۹۳۲ئ۔۲۰۰۶ئ) کا اصل نام عبدالحمید تھا۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔ آپ نے فارسی اور اردو کے معروف شاعر سید نصیب شاہ کی شاگردی اختیار کی۔ ابتدا میں آپ کی شاعری کا رجحان روایتی شاعری کی طرف تھا ۔بعد میں آپ نے شاعری برائے زندگی نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے شاعری کی۔ آپ غزل اور نعت کے شاعر ہیں۔ شاعری کے ساتھ آپ نے حصول معاش کے لیے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔(۷۸۴)
آثم فردوسی کا پہلا شعری مجموعہ ’’سفر آفتاب کا‘‘ ۱۹۸۹ء میں شائع ہوا جو غزلیات پر مشتمل ہے۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’عرش رسا‘‘ ۱۹۹۶ء کو شائع ہواجو حمدو نعت پر مشتمل ہے۔ تیسرا شعری مجموعہ ’’مہمان معلیؐ‘‘ ہے جو ۲۰۰۲ء کوشائع ہوا یہ نعتیہ شاعری پر مشتمل ہے۔ چوتھا شعری مجموعہ ’’سفیر کائناتؐ‘‘۲۰۰۳ء کو شائع ہوا۔
آثم فردوسی کی شاعری میں روایت پسندی کے ساتھ ساتھ جدت بھی پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں صرف غم جاناں کا ذکر ہی نہیں بلکہ ان کی شاعری کے موضوعات میں تنوع اور رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ان کے ہاں غمِ دوراں، اقدار کی پائمالی ،معاشرتی نا ہمواری ،رنگ و نسل کے امتیازات ،امارت و غربت کی تفریق اور انسانیت کی زبوں حالی کا ذکر واضح طورپر نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں ماضی اور ماضی کی یادوں کا اظہار بھی جا بجا ملتا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
آدمی کے خوں کو ارزاں دیکھ کر
وقت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
آگ اور پانی کی دشمنی ہے صدیوں سے
نفرتوں کی مٹی کو چاٹتے رہے گا کیا (۷۸۵)
کون سی بستی کو آثمؔ ڈھونڈتے رہتے ہو تم
درد کا سیلاب تو سب کچھ بہا کر لے گیا (۷۸۶)
تیرہ شب کے مسافروں سے کہو