مسعود الحسن،قاضی
رب نوازقاری
MS
HITEC University Taxila Cantt
ٹیکسلا
Urdu
شخصیات
2023-02-16 17:15:59
2023-02-17 21:08:06
1676730858278
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MS | HITEC University Taxila Cantt, ٹیکسلا | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | University of Sindh, جام شورو | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | University of Science & Technology Bannu, بنوں | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
قاضی عبدالغفار مراد آبادی
افسوس ہے پچھلے دنوں قاضی عبدالغفار صاحب مرادآبادی بھی داعی اجل کولبیک کہہ کر رہ گزائے عالم ِباقی ہوگئے۔مرحوم اردو کے نامور اورصاحب طرز ادیب، کامیاب صحافی اوربڑے خوش فکروپُرجوش قومی کارکن تھے۔ان کی شہرت کاآغاز بحیثیت ایک اخبار نویس کے ہوا۔اس سلسلہ میں انھوں نے مولانا محمد علی مرحوم سے باقاعدہ ٹریننگ لی تھی اورہمدرد کے عملۂ ادارت میں شریک رہنے کے علاوہ خوداپنے بھی متعدد اخبار نکالے تھے۔تحریک خلافت میں پیش پیش رہے اور قلم کے ساتھ زبان اورعمل سے بھی قومی خدمات انجام دیتے رہے۔ تحریک خلافت کے ختم ہوجانے پر لوگ کچھ اُن کو بھول سے چلے تھے کہ پھر یکایک’ لیلیٰ کے خطوط‘ نے ان کوادبی شہرت کے آسمان پرمہرنیمروز بنا کر چمکا دیا۔اس کے بعد انھوں نے ’’مجنوں کی ڈائری‘‘،’’تین پیسہ کی چھوکری‘‘،’’حیات جمال الدین افغانی‘‘ اور’’حیات اجمل‘‘وغیرہ کتابیں لکھیں جو ان کی شہرت میں برابر اضافہ ہی کرتی رہیں۔ مرحوم بڑے شگفتہ نگارمصنف اور صاحب قلم تھے، اُن کی تحریروں میں شوخی کے ساتھ سنجیدگی کابڑا لطیف امتزاج ہوتا تھا۔طبیعت کی رنگینی کا اثر صفحۂ قرطاس پربھی ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ اپنے فکروخیال میں بڑے پکے اور سخت قسم کے انسان تھے۔تجارت کے سلسلے میں یورپ بھی ہوآئے تھے اوروہاں کا سفرنامہ جو’’نقش ِفرنگ‘‘ کے نام سے لکھا تھا وہ بجائے خود اردو زبان کا ایک شاہکار ہے۔تقسیم کے بعدانجمن ترقی اُردو(ہند)کا علی گڑھ میں ازسرنو قیام ہوا توقاضی صاحب اُس کے سیکرٹری مقررہوئے اورآخر اسی انجمن کی خدمت کرتے کرتے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔بڑے ملنسار اورخوش خلق وخوش رو تھے، جس سے ملتے تھے اخلاص ومحبت سے ملتے تھے۔ اس صدی کے ربع اوّل کی یوپی کی تہذیب وشائستگی اورمخلوط تمدن وشستگی کے بڑے اچھے نمونہ تھے، بات کرتے تھے تومنہ سے پھول جھڑتے تھے اورمسکراتے تھے توگل ترکے دامن پرشبنم...