محمد شہباز قادری
شمس العارفین
PhD
The University of Lahore
لاہور
2014
2017
Urdu
اصولِ تفسیر , سیّدنا عبداللہ بن عباسؓ
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676731233774
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of Sindh, Jamshoro, Pakistan | |||
Mphil | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of Gujrat, Gujrat, Pakistan | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
اکرامؔ سانبوی (۱۹۴۲ء۔۲۰۱۱ء) کا اصل نام محمد اکرام ہے۔ آپ ریاست جموں کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد کا تعلق ضلع جموں کی تحصل سانبہ سے تھا۔ اسی لیے اکرام سانبوی کہلاتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جموں سے ہجرت کر کے سیالکوٹ کے محلہ پورن نگر میں آباد ہوئے۔ آپ نے ایم ۔اے اردو اورنیٹل کالج لاہور سے کیا اور اس کے بعد جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں اردو کے لیکچرا ر کی حیثیت سے آپ کا تقرر ہوگیا۔(۹۸۷)
اکرام ؔغزل اور نظم کے شاعر ہیں۔ کالج کے زمانے میں انھوں نے کئی مزاحیہ مضامین اور افسانے لکھے جو کالج میگزین کے علاوہ کئی سطح کے ادبوں رسالوں میں شائع ہوئے۔ تنقیدی مضامین اور خصوصاً شاعری کا شوق بڑی عمر میں ہوا۔ اس لحاظ سے ان کی شاعری کی عمر کچھ زیادہ نہیں تاہم ان کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ایک اچھا شاعر بننے کی پوری صلاحیت ہے۔ اکرامؔ کے کلام میں ہمیں گہرا سماجی شعور ملتاہے۔انھوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنی شاعری میں اپنے ماحول کی شعری زبان میں عکاسی کی ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کے مسائل کو بھی بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ان کے ہاں ہمیں افسردگی اور بے چینی نظر آتی ہے۔ جو ان کے دل کی دنیا کی بھر پور عکاسی کرتی ہے:
ہر طرف یاس کا اندھیرا ہے
/زندگی ہو گی اب بسر کیسے
-بے ثمر ہو گئے شجر کیسے
-بے صدا ہو گئے نگر کیسے
(۹۸۸)
زبان شعر...