منزہ اکمل
شمس العارفین
Mphil
The University of Lahore
لاہور
2019
2021
Urdu
حقوق و تربیت اولاد
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676731236795
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | TWU, ملتان | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Sardar Bahadur Khan Womens University, کوئٹہ | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
BS | , Multan, Pakistan | |||
BS | ICFW, لاہور | |||
Mphil | Mirpur University of Science and Technology, میرپور | |||
Mphil | OU, اوکاڑہ | |||
Mphil | The University of Lahore, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Mirpur University of Science and Technology, میرپور | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | Riphah International University, Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | Riphah International University, Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا محمد عرفان خاں
ایک مجاہد کا ماتم
مولانا محمد عرفان خاں صاحب معتمد خلافت بمبئی کی ناگہانی وفات کی خبر اخباروں کے ذریعہ آپ تک پہنچی ہوگی، مرحوم ہزارہ سرحد کے رہنے والے تھے، اور سلسلہ خیرآباد کے عالمِ معقولات اور مدرس تھے، ۱۹۲۰ء کی قومی تحریکات نے درس و تدریس کی مسند سے اٹھاکر قوم و ملت کے عملی کا موں سے ان کو وابستہ کردیا، ان کی سب سے مخلصانہ خدمت ۱۹۲۳ء اور ۱۹۲۴ء میں ملکانوں کے فتنہ ارتداد کے موقع پر ان کی جانبازی، ایثار اور محنت ہے، ان کے علاقوں میں بیسیوں میل پیادہ اور بھوکے پیاسے سفر کرنا اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں مارے مارے پھرنا ان کی زندگی کا اہم کارنامہ ہے، اس کے بعد انھوں نے جمعیۃ العلماء دہلی سے وابستہ ہوکر جمعیۃ کے کاموں کو کچھ زمانہ تک انجام دیا، اور شریف حجاز اور ابن سعود کی لڑائی کے زمانہ میں حجاز جاکر معاملات کی تحقیقات کے لیے نامزد ہوئے، پھر ۱۹۲۶ء میں موتمر اسلامی کی شرکت کے لیے گئے اور وہاں سے واپسی پر وہ بمبئی کی مجلس خلافت کے کاموں میں مصروف ہوگئے، اور اسی مصروفیت میں ان کی زندگی کے آخری سال بسر ہوئے، ان کی عمر اس وقت پچاس سے زیادہ نہ ہوگی، بلند و بالامضبوط اور قومی تھے، ایک دفعہ وہ قومی تحریکوں کے سلسلہ میں قید بھی ہوئے تھے، اور اسی قید میں انھوں نے یہ سعادت پائی کہ حافظ قرآن ہوئے۔
مرحوم نہایت دوست پرور ہنس مکھ، ظریف اور فیاض تھے، صوبہ سرحد سے وہ مدتوں جلا وطن رہے، جلاوطنی کا دور ختم ہوا تب بھی وطن جاکر اپنی خدمات کی وسعت کو انھوں نے محدود کرنا پسند نہیں کیا، تمام عمر مجرد رہے، اور اسی طرح پوری عمر گذاردی، ایک طرف وہ فقیر بے نوا تھے، دوسری طرف...