احمد سعید
شمس العارفین
PhD
The University of Lahore
لاہور
2019
2020
Urdu
طلاق
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 17:33:40
1676731237252
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Peshawar, پشاور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | University of Peshawar, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Peshawar, پشاور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Riphah International University, Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | University of Peshawar, پشاور | |||
Mphil | Hazara University, Mansehra, Pakistan | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of the Punjab, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا سید مرتضیٰ حسن
افسوس ہے کہ گزشتہ ماہ میں جناب سیدمرتضیٰ حسن صاحب کم و بیش پچانوے سال کی عمر میں اپنے وطن چاندپور ضلع مرادآباد میں اورجناب نہال سیوہاروی نے کراچی میں وفات پائی۔ مولانا مرحوم اکابر علمائے دیوبند میں سے تھے۔ علاوہ علم و فضل کے بڑے خوش بیان مقرر، کامیاب مناظر اور واعظ تھے۔ تحریکِ خلافت کے زمانہ میں مرحوم کی تقریروں کی جن میں حقیقت وظرافت دونوں کاخوش گوار امتزاج ہوتاتھا ملک بھر میں دھوم تھی۔حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحبؒ مہتمم اوّل دارالعلوم دیوبند سے نسبتِ روحانی تھی اور اس تقریب سے قطبِ وقت حضرت مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمن صاحب سے تعلق ِخاص رکھتے تھے اورقطب ِعالم حضرت مولانا گنگوہیؒ کی مجلس علمی وروحانی کے مخصوص ہم نشینوں میں داخل تھے، اس لیے ذکرومراقبہ کاشغل بھی رکھتے تھے۔ ایک عرصہ تک مدرسۂ امدادیہ مرادآباد کے روح رواں رہے۔۱۹۲۰ء میں پھر دارالعلوم دیوبند کے ناظم تعلیمات ہوکرچلے گئے۔ اب ادھر پندرہ سولہ سال سے عملاً خانہ نشین ہوگئے تھے۔ خود بزرگ تھے اوربزرگوں کی نشانی تھے، سینکڑوں ہزاروں علما جن میں مولانا سید سلیمان ندوی ایسے بلند پایہ عالم بھی شامل ہیں، ان کے فیض تلمذ سے مستفید ہوئے۔حق تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں مقام جلیل عطافرمائے۔آمین ثم آمین۔ [جنوری۱۹۵۲ء]